مسئلہ:
اگر کوئی شحص کسی کو کوئی حدیث شریف سنائے اور اس پر وہ شخص یہ کہے میں تو اسے بار بار سن چکا ہوں ، اگر اس کا یہ قول استخفا فاً ہے تو اس کے لئے ایمان ونکاح کی تجدید اور توبہ لازم ہے، اوراگر استخفافاً نہیں ہے تو موجبِ کفر نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’الفتاوی البزازیة علی ھامش الھندیة‘‘: من سمع حدیثه علیه السلام فقال سمعناه کثیراً بطریق الاستخفاف یکفر۔ والحاصل أنه إذا استخف بسنة أو حدیث من أحادیثه علیه السلام کفر ۔ (۳۲۸/۶، کتاب الألفاظ تکون مسلما، الباب الثالث)
ما في ’’مجمع الأنھر‘‘: من استخف بسنة أو حدیث من أحادیثه علیه الصلاة والسلام أو رد حدیثاً متواتراً أو قال سمعناه کثیراً بطریق الاستخفاف کفّر ۔
(۵۰۶/۲: کتاب السیر والجھاد تم ان الفاظ الکفر انوع )
ما في ’’البحرالرائق‘‘: واختلفوا فیمن قال لو لم یأکل آدم علیه الصلاة والسلام الحنطة ما صرنا أشقیاء ، وبرده حدیثاً مرویاً إن کان متواتراً أو قال علی وجه الاستخفاف سمعناه کثیراً ۔ (۲۰۴/۵، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین)
(فتاوی یوسفیه :۱/۵۱۴)
