بلی کے رونے کی آواز سن کر اسے بھگادینا

مسئلہ:

 بعض لوگ بلی کے رونے کی آواز سن کر یہ کہتے ہیں کہ اس کو بھگادو، ورنہ کوئی مرجائے گا، اسی طرح کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مرد کی بائیں آنکھ اور عورت کی دائیں آنکھ پھڑکنے سے کوئی مصیبت یا رنج ہوتا ہے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ ہتھیلی میں خارش یعنی کھجلی ہونے سے مال ملتا ہے، یا جوتے پر جوتا چڑھنے سے سفر پیش آتا ہے، یہ تمام باتیں غلط ، بے بنیاد اور توہم پرستی  ہیں ، جن کا شریعتِ اسلامی سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {قل لن یصیبنا إلا ما کتب الله لنا هو مولٰنا وعلی الله فلیتوکل المؤمنون} ۔ (سورة التوبة:۵۱)

ما في ’’تفسیر روح المعاني‘‘: أي لن یصیبنا إلا ما حظ الله لأجلنا في اللوح ۔۔۔۔۔ فتدل الآیة علی أن الحوادث کلها بقضاء الله تعالی ۔ (۱۱۶/۶)

ما في ’’الموسوعة الفقهیة‘‘: قد اتفق أهل التوحیدعلی تحریم التطیر ونفي تأثیره في الحدوث الخیر أو الشر لما في ذلک من الإشراک بالله في تدبیر الأمور۔   (۱۸۳/۱۲)

ما في ’’مرقاة المفاتیح‘‘: من اعتقد أن شیئاً سوی الله ینفع أو یضر بالاستقلال فقد أشرک جلیاًً۔(۳۹۱/۸)

وما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {قالوا الطیرنا بک وبمن معک}۔(سورة النمل:۴۷)

ما في ’’معارج التفکر والتدبر‘‘: والتطیر هو التشاؤم بالأشیاء وبالأشخاص أو بمسموع أم مرئ أو نحو ذلک ۔ (۳۹۹/۹، القول المفید علی کتاب التوحید:۱۲/۱، باب التطیر)

اوپر تک سکرول کریں۔