مسئلہ:
نکاح میں بارات کا مروجہ دستور شرعی چیز نہیں ہے، اپنی حیثیت اور وسعت سے زیادہ کا اہتمام کرنا اور غیر لازم کو لازم بنانا جائز نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {ولا تبذر تبذیراً إن المبذرین کانوا إخوان الشیاطین، وکان الشیطان لربه کفوراً} ۔ (سورة الإسراء:۲۷)
ما في ’’أحکام القرآن للجصاص‘‘: روي عن عبد الله بن مسعود وابن عباس رضي الله عنهم: التبذیر إنفاق المال في غیر حقه۔ (۲۵۷/۳)
ما في ’’شعب الإیمان للبیهقي‘‘: قال النبي ﷺ : ’’ إن أعظم النکاح برکة أیسره مؤنة ‘‘۔( ۲۵۴/۵، رقم الحدیث:۶۵۶۶) (نظام الفتاوی: ۵/۲۰۵)
