مسئلہ:
آج کل کوٹ پتلون یاشیروانی ڈرائی کلینر( Dry Cleaner)کے ذریعہ پٹرول و غیرہ سے دھوئے جاتے ہیں اس کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں:
(۱) اگر یہ کپڑے پہلے سے پاک تھے اور ڈرائی کلیننگ(Dry Cleaning) کے وقت ان کے ساتھ ناپاک کپڑے نہ ملا ئے گئے ہوں تو ان کپڑوں کی پاکی متاثر نہ ہوگی اور وہ پاک ہی رہیں گے ۔
(۲) اگر ان پرایسی ناپاکی لگی تھی جو خشک ہونے کے بعد دکھائی دیتی ہے اور ڈرائی کلینگ(Dry Cleaning) کے بعد وہ دور ہوگئی تو یہ کپڑے پاک ہونگے،کیونکہ نجاستِ مرئیہ میں عینِ نجاست کا ازالہ مقصود ہوتا ہے، خواہ وہ کسی بھی طریقہ سے حا صل ہو، البتہ ان دونوں صورتوں میں بھی احتیاط اسی میں ہے کہ کپڑے دھل کر آنے کے بعد خود ان کو پاک کر لیں ۔
(۳) اگر کپڑوں پرایسی نا پاکی لگی تھی جو خشک ہو نے کے بعد دکھائی نہ دیتی ہو تو اس کی پاکی کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو تین بار دھویا جائے اور ہر بار نچوڑ ا جائے اور ڈرائی کلیننگ (Dry Cleaning) میں یہ صورت نہیں پائی جاتی اس لیے وہ ناپاک ہی رہیں گے اور دھل کر آنے کے بعد بھی ان کو پاک کرنے کے لئے شرعی ضابطہ کے مطابق دھونا ضروری ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’الموسوعة الفقهیة المقارنة التجرید للإما القدوري‘‘: قال أبوحنیفة وأبو یوسف رحمھما الله : یجوز إزالة النجاسة بجمیع المائعات الطا ھرة ۔ (۶۰/۱، رقم المسئلة:۲)
وما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: أقول لکن قد علمت أن المعتبر في تطھیر النجاسة المرئیة زوال عینھا ولو بغسلة واحدة ولو في اجّانة کما مرّ فلا یشترط منھا تثلیث غسل ولا عصر ۔(۴۷۰/۱)
وما في ’’حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح‘‘: ویطھر محل النجاسة غیر المرئیة بغسلھا ثلاثا وجوبا والعصر کل مرّة یبالغ في المرّة الثالثة حتی ینقطع التقاطر والمعتبر قوّة عاصرٍ دون غیره ۔(ص۱۶۱، الموسوعة الفقھیة:۹۹/۲۹)
وما في ’’المبسوط للإمام السرخسی‘‘: ولو غسل ثوب نجس في اجانة بماء نظیف ثم في أخری فقد طھر الثوب ۔ (۲۲۳/۱، باب البئر)
وما في ’’الجوھرة النیرة‘‘: ویجوز تطھیر النجاسة بالماء وبکل مائع طاھر، وعن أبي یوسف رحمه الله تعالی أنه فرق بین الثوب والبدن فقال: لا تزول النجاسة من البدن إلا بالماء المطلق اعتباراً بالحدث بخلاف الثوب فإنھا تزول بکل مائع طاھر ۔ (۱۰۰/۱، باب الأنجاس)
