مسئلہ:
اگر انجکشن کے ذریعے ٹیسٹ یا کسی دوسرے مقصد کے لیے خون نکالا جائے تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا ، کیوں کہ ٹیسٹ کے لیے عامة اتنا خون نکالا جاتا ہے جو نکل کر اپنے محل سے بہہ سکتا ہے، لیکن اگر دوا پہونچانے کی غرض سے انجکشن دیا تو یہ انجکشن ناقضِ وضو نہیں ہے، ہاں اگر انجکشن لگوانے کے بعد اتنا خون نکلے جو اپنی جگہ سے بہہ سکتا ہوتو ناقضِ وضو ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’نصب الرایة للزیلعي‘‘: لقوله علیه السلام: ’’ الوضوء من کل دم سائل ‘‘۔ ولقوله علیه السلام: ’’الوضوء مما خرج ولیس مما دخل‘‘۔ (۸۳/۱-۸۵)
ما في ’’حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح‘‘: وفي غیر السبیلین بتجاوز النجاسة إلی محل یطلب تطهیره ’’مراقي الفلاح‘‘ قوله : (وفي غیر السبیلین بتجاوز النجاسة إلی محل الخ) والمراد أن تتجاوزه ، ولو بالعصر ، وما شأنه أن یتجاوز لولا المانع، کما لو مصت علقة ، فامتلأت بحیث لو شقت لسال منه الدم کذا في الحلبي ۔
(ص۸۷ ، کتاب الطهارة، الدر المختار مع الشامیة:۲۳۵/۱، نواقض الوضوء، الفتاوی الهندیة: ۱۱/۱، نواقض الوضوء ، المحیط البرهاني:۶۰/۱، فصل فیما یوجب الوضوء ، الفصل الثاني)
