بعد میں آنے والا صف میں کہاں کھڑا ہو؟

مسئلہ:

بعض لوگ جماعت کھڑی ہونے کے بعد مسجد میں آتے ہیں اور رکعت پانے کے لیے مسجد میں جہاں جگہ مل جاتی ہے وہیں کھڑے ہوکر امام کی اقتدا کر لیتے ہیں ، جب کہ حکمِ شرعی یہ ہے کہ اگر صف میں جگہ ہو تو اس کو پُر کر لیا جائے(۱) ، او راگر صف بھر چکی ہو تو کسی اور شخص کی آمد کاانتظار کرے ، پھر دونوں امام کے پیچھے کھڑے ہوجائیں ، اور اگر امام کے رکوع میں جانے تک کوئی اور شخص نہیں آیا تو اگلی صف سے مسئلہ سے واقف شخص کو پیچھے کھینچ لیں ، اور دونوں امام کے پیچھے کھڑے ہوں ، اور اگر ایسا شخص موجود نہ ہو تو ضرورتاً صف کے پیچھے امام کی سیدھ میں کھڑا ہو۔ (۲)

الحجة علی ما قلنا

(۱) ما في ’’السنن لأبي داود‘‘: قال رسول الله ﷺ: ’’ وسطوا الإمام وسدوا الخلل ‘‘۔۹۹)

(۲) ما في ’’ الشامیة ‘‘: متی استوی جانباه یقوم عن یمین الإمام إن أمکنه وإن وجد في الصف فرجة سدها وإلا انتظر حتی یجيء آخر فیقفان خلفه وإن لم یجئ حتی رکع الإمام یختار أعلم الناس بهذه المسألة فیجذبه ویقفان خلفه ولو لم یجد عالماً یقف خلف الصلاة بحذاء الإمام للضرورة۔

(۲۶۶/۲، باب الإمامة ، مطلب هل الإساء ة دون الکراهة أو أفحش منها)

ما في ’’الفتاوی التاتارخانیة‘‘: ولو جاء والصفوف متصلة انتظر حتی یجيء آخر فإن خاف فوت الرکعة جذب واحداً من الصف أو من علی یمین الإمام إن علم أنه لا یؤذیه ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وإذا قاموا في الصفوف تراصوا وسووا بین مناکبهم ،  وفي ’’ جامع الجوامع ‘‘ : ویسدون الخلل وینبغي أن یجيء إلی الصلاة بالسکینة والوقار، وفي الخلاصة : وإن خاف الفوت۔’’جامع الجوامع‘‘: وینبغي أن یحاذي الإمام أفضلهم ۔

(۳۹۰/۱ ، الفصل السابع في بیان مقام الإمام والماموم ، الفتاوی الهندیة :۸۹/۱ ، الفصل الخامس)  (فتاوی دار العلوم :۳/۳۳۵)

اوپر تک سکرول کریں۔