فجر کی سنت فوت ہوجائے تو طلوعِ شمس کے بعد پڑھے

مسئلہ:

اگر کسی شخص کو فجر کی سنت پڑھنے کا موقع نہ ملے تو فجر کی نماز کے بعد سورج کے طلوع ہو نے سے پہلے بالاتفاق اس کی قضا نہیں کی جائے گی، کیونکہ فجر کی نماز کے بعد نفل پڑھنا مکروہ ہے، اب طلوع شمس کے بعد اس کی قضا کی جائے گی یا نہیں اس میں اختلاف ہے ،شیخینؒ کے نز دیک قضا نہیں کی جا ئے گی لیکن اگر کرے تو کو ئی مضائقہ نہیں اور اما م محمدؒ کے نز دیک زوال سے پہلے تک قضا کر نا مستحب ہے یعنی نہ کیا تو کو ئی ملامت نہیں ،گو یا یہ اختلاف اتفاق سے قریب ہے ۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’الدر المختار مع الشامیة‘‘: وإذا فاتت وحدھا فلا تقضی قبل طلوع الشمش بالإجماع لکراھة النفل بعد الصبح وأما بعد طلوع  الشمش فکذلک عندھما وقال محمد : أحب إلي أن یقضیھما إلی الزوال کما في الدرر۔ قیل ھذا قریب من الاتفاق لأن قوله: أحب إلي دلیل علی أنه لو لم یفعل لا لوم علیه وقالا لایقضي وإن قضی فلا بأس به ۔

(۵۱۲/۲، باب إدراک الفریضة)

اوپر تک سکرول کریں۔