قعدۂ اولیٰ میں بیٹھنے کے بجائے کھڑا ہوجائے پھر بیٹھ جائے تو کیا حکم ہے؟

مسئلہ:

اگر امام عشاء کی نمازمیں قعدۂ او لیٰ پر بیٹھنے کے بجائے پوری طرح تیسری رکعت کے لیے کھڑ ا ہوجائے، اب پیچھے سے کوئی مقتدی اسے لقمہ دے تو اسے چاہئے کہ وہ قعدہ میں نہ بیٹھے ،کیوں کہ بیٹھنے کی صورت میں بعض فقہاء کرام نے فسادِ نماز کاحکم لگا یا ہے، لیکن اگر بیٹھ گیا پھر تیسری اور چوتھی رکعت مکمل کرلی اور آخرمیں سجدۂ سہو بھی کر لیا تو اصح قول کے مطابق نماز صحیح ہوجائے گی ۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’السنن لأبي داود‘‘: ’’ إذا قام الإمام في الرکعتین فإن ذکر قبل أن یستوي قائماً فلیجلس فإن استوی قائماً فلا یجلس ویسجد سجدتي السهو ‘‘۔ (ص:۱۴۸)

ما في ’’مراقي الفلاح مع حاشیة الطحطاوي‘‘: فإن عاد وهو إلی القیام أقرب سجد للسهو، وإن کان إلی القعود أقرب لا سجود علیه في الأصح، وإن عاد بعد استتم قائماً اختلف التصحیح في فساد صلاته وأرجحهما عدم الفساد ، قد بالغ في ’’المنتقی‘‘ في رد القول بالفساد وجعله غلطاً لأنه تاخیرلا رفض۔ (ص۴۶۶، باب سجود السهو)

وما في ’’الدر المختار‘‘: سها عن القعود الأول من الفرض ثم تذکر عاد إلیه ما لم یستقم قائماً وإلا أي وإن استقام قائماً لا یعود وسجد للسهو لترک الواجب فلو عاد إلی القعود تفسد صلاته لرفض الفرض لما لیس بفرض و صححه الزیلعي وقیل لا تفسد لکنه یکو ن مسیئاً و یسجد لتاخیر الواجب و هو الأشبه کما حققه الکمال وهو الحق ، بحر ۔

(۴۷۸/۲، باب سجود السهو ، منحة الخالق علی البحر الرائق :۱۷۹/۲،کتاب المبسوط للسرخسي: ۳۸۴/۱، باب سجود السهو)  

(فتاوی حقانیه: ۳/۳۲۱ ، باب سجود السهو، خیر الفتاوی :۲/۶۲۰)

اوپر تک سکرول کریں۔