مسئلہ:
اگر کسی شخص کا کسی حادثہ میں انتقال ہو جائے اور اس کا جسم بھی متا ثر ہو جائے، اگر اس صورت میں جسم کا اکثر حصہ یانصف حصہ سر کے سا تھ مل جائے تو اس کو غسل وکفن دیا جائیگا اور اس پر نما زِ جنازہ پڑھی جائے گی اور اگر جسم کا آدھا حصہ بغیر سر کے مل جائے یا لمبائی میں پھٹا ہوا مل جائے تو نہ اس کو غسل دیا جائیگا نہ اس پر نما ز جنازہ پڑھی جائے گی، محض ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے گا ۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ الفتاوی الھندیة ‘‘: ولو وجد أکثر البدن أو نصفه مع الرأسِ یُغْسَل ویکفنُ ویصلی علیه وإن وجد نصفه من غیر الرأس أو وجد نصفه من غیر الرأس أو وجد نصفه مشقوقاً طولا فإنه لا یغسل ولا یصلی علیه ویلف في خرقة ویدفن فیھا کذا في المضمرات۔(۱۵۹/۱، کتاب الجنائز، الفصل الثاني في الغسل)
ما في ’’البحرالرائق‘‘: ولو وجد أکثر من المیت أوالنصف مع الرأس غسل وصلی علیه وإلا فلا۔(۳۰۵/۲،کتاب الجنائز)
ما في ’’الدر المختار‘‘: وجد رأس آدمي أو أحد شقیه لا یغسل ولا یصلی علیه بل یدفن إلا أن یوجد أکثر من نصفه ولو بلا رأس۔
(۸۶/۳ ، مطلب کل سبب ونسب منقطع إلا سبب ونسب)
(فتاوی حقانیه : ۳/۴۴۰ ، فتاوی محمودیه : ۸/۶۶۲)
ما في ’’شرح کتاب السیر الکبیر‘‘: وذکر عن الحسن قال: إذا وجد ما یلي الصدر القتیل إلی رأسه غسل وصلی علیه یعني إذا وجد أکثر البدن أو نصف البدن معه الرأس وبه نأخذ لا تعاد الصلوة علی مـیـت واحــد فلو صلی علی النصف أو ما دونه یؤدي إلی تکرار الصلاة علی میت واحد بأن یوجد نصف الباقي وھذا لا یکون فیما إذا وجد أکثر البدن أو النصف ومعه الرأس۔(۱۶۴/۱، باب الشھید وما یصنع به)
