حج کب فرض ہوتا ہے ؟

مسئلہ:

اگر کسی آدمی کی مالی حیثیت اتنی ہو کہ بیوی کا مہر ادا کر نے کے بعد اہل وعیال کے خرچ کے بعد بہ آسانی حج کے اخراجات پورے ہو سکتے ہیں ،تو اس پر حج فرض ہو جاتا ہے ، گویہ سمجھے کہ حج کے مصارف برداشت کرنے سے حج کے بعد میری حالت صفر ہوجا ئیگی ، کیو نکہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’حج میں جو کچھ بھی خرچ ہوتا ہے اللہ رب العزت اس کے عوض سات سو گنا عطا فرما تے ہیں ‘‘۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ کنز العمال‘‘: لقوله علیه السلام: ’’الحج في سبیل الله تضعف فیه النفقة بسبع مائة ضعف‘‘۔ (۳/۵، رقم الحدیث:۱۱۷۸۰، کتاب الحج)

ما في ’’مجمع الأنهر في شرح ملتقی الأبحر‘‘: الحج هوزیارة مکان مخصوص في زمن مخصوص بفعل مخصوص فرض في العمر مرة علی الفور خلافا لمحمد بشرط إسلام وحریة وعقل وبلوغ وصحة وقدرة زاد وراحلة ونفقة ذهابه وإیابه فضلت عن حوائجه الأصلیة ونفقة عیاله إلی حین عوده إلی وطنه من ابتداء سفره فلا یشترط بقاء نفقة یوم بعد العود وقیل یشترط، وعن أبي یوسف بعد عوده بشهر لأنه لا یمکنه الکسب عقیب القدوم۔(۳۸۶/۱، الدرالمختار مع الشامیة : ۴۰۸/۳، الفتاوی الهندیة: ۲۱۷/۱)

اوپر تک سکرول کریں۔