مسئلہ:
حجِ بدل کرنے والا اِفراد کی نیت کرے قران اور تمتع کی اجازت نہیں ہے، ہاں جس کی طرف سے حج کر ے اس نے قران یا تمتع کی اجازت دی ہو تو اس کے مطابق عمل کر سکتاہے، مگر تمتع وقران کی صورت میں قربانی کا خرچہ خود ہی برداشت کرے ،خلاصہ یہ ہے کہ بلااجازت قران وتمتع نہیں کر سکتا ہے ۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: { فمن تمتع بالعمرة إلی الحج فما استیسرمن الهدي}۔ (البقرة:۹۶)
ما في ’’ المصنف لإبن أبي شیبة ‘‘: روي أن رسول اللهﷺ قارناً فنحر البدن ۔
وقال جابر رضي الله عنه : ’’ کنا نتمتع مع رسول الله ﷺ فنذبح البقرة عن سبعة ‘‘۔
وقال ابن عباس رضي الله عنهما: ’’ یجزي المتمتع أن یشارک في دم‘‘۔(۶۰/۸، رقم الحدیث:۱۲۹۴۰،۱۲۹۴۱،کتاب المناسک، باب یجزي أن یشارک في دم)
ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: ودم القران والتمتع والجنایة علی الحاج إن أذن له الآمر بالقران والتمتع وإلا فیصیر مخالفاً فیضمن ۔
(۳۰/۴، باب الحج عن الغیر، مطلب العمل علی القیاس دون الاستحسان، مجمع الأنهر في شرح ملتقی الأبحر:۴۵۷/۱، مجمع البحرین في ملتقی النیرین:ص۲۳۳)
(فتاوی محمودیه: ۴۱۷/۱۰ ، فتاوی رحیمیه : ۱۱۸/۸، کتاب المناسک)
