حج کی وصیت کئے بغیر مر جا ئے تو کیا حکم ہے؟

مسئلہ:

ایک شخص پر حج فرض ہو گیا لیکن اس نے حج نہیں کیا یہا ں تک کہ وہ مر گیا اور وصیت بھی نہیں کی ، تو اگر کو ئی وارث اس میت کی جانب سے حجِ بدل کر لے تو امید ہے کہ اس سے موا خذہ نہیں ہو گا، ہاں اگر حج کی وصیت کر گیا ہو اور اتنا مال بھی چھوڑ ا ہو کہ اس کے ثلث مال سے فریضہ ٔحج ادا کیا جا سکتا ہو، تو ایسی صو رت میں اس کی وصیت کے مطا بق اس کی طرف سے حج کر نا ضرو ری ہے ۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’السنن الترمذي‘‘: ’’ جاء ت امرأة إلی النبيﷺ فقالت: إن أمي ماتت ولم تحج، أفأحج عنها؟ قال: نعم حجي عنها‘‘۔

(۷۴/۲،کتاب الحج، باب ماجاء في الحج عن الشیخ الکبیر والمیت)

ما في ’’السنن الدارقطني‘‘:  أن رجلا سأل رسول اللهﷺ عن الحج عن أبیه، قال:’’ احجج عنه ، ألا تری أنه لو کان علیه دین فقضیته عنه ان ذلک یجزي عنه؟ قال: بلی؛ قال: فحق الله أحق‘‘۔(۲۲۹/۲،کتاب المناسک، رقم الحدیث:۲۵۸۹)

ما في ’’الفتاوی التاتارخانیة ‘‘: من مات وعلیه فرض الحج ولم یوص به لم یلزم الوارث أن یحج عنه وإن أحب أن یحج عنه حج، وأرجو أن یجزئه إن شاء الله تعالی۔

(۲۳۳/۲ ،کتاب الحج ، الوصیة بالحج، بدائع الصنائع :۴۶۹/۲ ، الشامیة : ۱۶/۴، ۱۷، باب الحج عن الغیر)

(فتاوی محمودیه:۴۲۱/۱۰، أحسن الفتاوی: ۲۵۸۹)

اوپر تک سکرول کریں۔