قربانی سے پہلے نہ کھانا مستحب ہے

مسئلہ:

بروز عید قرباں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب تک قربانی نہ ہو روزے سے رہے ، یعنی نہ کچھ کھائے او رنہ پئے ، شریعتِ اسلامیہ میں اس قول کی کوئی اصل وحقیقت نہیں ہے، البتہ جو شخص قربانی کرے اس کے لیے یہ مستحب ہے کہ عید الاضحی کی نماز سے فارغ ہونے تک کچھ نہ کھائے ، تاکہ اس دن اس کا اولِ طعام اس کی قربانی کا گوشت ہو۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’إعلاء السنن‘‘: وروي أنه ﷺ کان لا یخرج یوم الفطر حتی یطعم وکان لا یأکل یوم النحر شیئا حتی یرجع فیأکل من أضحیته ۔ (۲۵۰/۱۷، کتاب الأضاحي)

ما في ’’حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح‘‘: وأحکام الأضحی کالفطر لکنه في الأضحی یؤخر الأکل عن الصلاة استحبابا فإن قدمه لا یکره في المختار، وفیه رمز إلی أن هذا الإمساک لیس بصوم ولذا لم یشترط له النیة وإلی أنه مندوب في حق المصریین فقط۔۵۳۶، مجمع الأنهر في شرح ملتقی الأبحر:۲۵۸/۱)

ما في ’’ تبیین الحقائق‘‘: قال رحمه الله: (لکن هنا یؤخر الأکل عنها) لما روي أنه علیه الصلاة والسلام کان لا یطعم في یوم الأضحی حتی یرجع فیأکل من أضحیته، وقیل هذا في حق من یضحي لیأکل من أضحیته أولا أما في حق غیره فلا، ثم قیل الأکل قبل الصلاة مکروه، والمختار أنه لیس بمکروھ ولکن یستحب أن لا یأکل ۔ (۵۴۳/۱)

اوپر تک سکرول کریں۔