مسئلہ:
جان بوجھ کر سودخور کے ساتھ قربانی میں شرکت نہیں کرنی چاہیے، کیوں کہ حرام رقم سے شرکت کرنے کی صورت میں کسی کی بھی قربانی درست نہیں ہوگی، ہاں اگر ایسا آدمی کسی سے حلال رقم لے کر قربانی میں حصہ لے تو اس کو اجتماعی قربانی میں شامل کرنا جائز ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ردالمحتار علی الدرالمختار‘‘: وإن کان شریک الستة نصرانیا أو مرید اللحم لم یجز عن واحد، وکذا إذا کان عبدا أو مدبرا یرید الأضحیة لأن نیته باطلة لأنه لیس من أهل هذه القربة فکان نصیبه لحما فمنع الجواز أصلا ۔ (۳۹۵/۹،کتاب الأضحیة ، البحرالرائق:۳۲۵/۸)
ما في ’’ بدائع الصنائع‘‘: وهکذا قال أبو یوسف رحمه الله: ولو کان أحد الشرکاء ذمیا، کتابیا أو غیر کتابي وهو یرید اللحم أو أراد القربة في دینه لم یجز عندنا۔ (۲۰۹/۴)
(جامع الفتاوی:۷۷/۴، احسن الفتاوی:۵۰۳/۷، کفایت المفتی: ۲۰۵/۸)
