مسئلہ:
جس آدمی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو اس کے لیے مستحب ہے کہ ماہ ذی الحجہ کے آغاز سے جب تک قربانی کا جانور ذبح نہ کرے، اپنے بال وناخن صاف نہ کرے، لیکن یہ عمل مستحب ہے اور مستحب کا حکم یہ ہے کہ کرنے والا مستحقِ ثواب اور نہ کرنے کی صورت میں کوئی گناہ لازم نہیں آتا اور نہ قربانی کی صحت میں کوئی خلل واقع ہوتا ہے ۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’الصحیح لمسلم‘‘: لقوله علیه السلام : ’’إذا رأیتم هلال ذي الحجة وأراد أحدکم أن یضحي فلیمسک عن شعره وأظفاره ‘‘۔ (۱۶۰/۲،کتاب الأضحیة)
ما في ’’إعلاء السنن‘‘: والنهي محمول عندنا خلاف الأولی۔(۲۰۸/۱۷)
ما في ’’الفقه الإسلامي وأدلته‘‘: المستحب لمرید التضحیة إذا دخل علیه عشر ذي الحجة لا یحلق شعره ولا یقلم أظفاره حتی یضحي بل یکره له ذلک۔
(۲۷۳۵/۴ ، الموسوعة الفقهیة:۵/ ۹۵)
(فتاوی محمودیه:۴۸۶/۱۷)
ما في ’’موسوعة مصطلحات الفقه عند المسلمین‘‘: ’’المندوب ما یتعلق بفعله ولا یتعلق العقاب بترکه ‘‘۔ (۱۵۷۳/۲)
