جانور کو بجلی کا شاک لگانا

مسئلہ:

بعض مقامات پر قربانی کے جانور کو ذبح کرنے سے پہلے بجلی کا شاک لگایا جاتا ہے ، اگر یہ شاک اتنا تیز ہے کہ اس سے جانور کا خون بڑی مقدار میں خشک ہوجاتاہے، تو یہ طریقہ سنتِ متواترہ کے خلاف ہو نے کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہے، شرعِ اسلامی میں جانور کو اس طرح اذیت دینے کی قطعی اجازت نہیں ہے۔ تاہم اگر جانور میں زندگی باقی تھی اور ذبح کرنے پر جانور کا خون جوش کے ساتھ نکلا تو ذبیحہ حلال ہے اور اس کا گوشت بھی حلال ہے ، لیکن اگر بجلی کا شاک ہلکا اور معمولی ہوجس سے جانور کو تکلیف نہ پہونچتی ہو اور اس کا مقصود یہ ہو کہ جانور کو ذبح کی تکلیف کم سے کم پہونچے اور قوتِ مدافعت میں کمی آجائے تو اس مصلحت کی وجہ سے اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’  القرآن الکریم  ‘‘: {حرمت علیکم المیتة والدم ولحم الخنزیر وما أهل لغیر الله به والمنخنقة والموقوذة} ۔ (المائدة: ۳)

ما في ’’السنن لأبي داود‘‘: لقوله علیه السلام: ’’ إن الله کتب الإحسان علی کل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح ‘‘۔ (ص۳۸۹ ، باب الذبح من الرفق)

ما في ’’ بدائع الصنائع‘‘: لا بد من أحد شیئین أما التحرک وأما خروج الدم فإن لم یوجد لا یحل کأنه جعل وجود أحدهما بعد الذبح علامة الحیاة وقت الذبح ۔ (۱۷۵/۴)

ما في ’’ الفتاوی الهندیة ‘‘ : فإذا لم یوجد لم تعلم حیاته وقت الذ بح فلا تحل ۔ (۲۷۶/۵)

اوپر تک سکرول کریں۔