کھال کی رقم کو مستقل آمدنی کا ذریعہ بنانا

مسئلہ:

کسی جماعت یا تنظیم کا قربانی کی کھال کی رقم کو مستقل آمدنی کا ذریعہ بنانا ، مثلاً اس رقم سے کوئی ایسی جائیداد اورپراپرٹی خریدناکہ اس سے مستقل آمدنی ہوتی رہے ، جس سے غریبوں، مسکینوں اور ضرورتمندوں کی مدد کی جاسکے، شرعاًجائز نہیں ہے،بلکہ کھال جمع کرنے والی جماعت یا برادری پر لازم ہے کہ وہ جلد از جلد اس رقم کا کسی مستحقِ صدقہ کو مالک بنادے ورنہ گنہگار ہوگا، اس لیے کہ اس رقم کا تصدق واجب ہے اور تصدق کی حقیقت بھی یہی ہے کہ کسی مستحقِ صدقہ کو اس کا مالک بنادے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {إنما الصدقات للفقراء والمساکین والعاملین علیها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمین وفي سبیل الله وابن السبیل} ۔ (التوبه:۶۰)

ما في ’’أحکام القرآن للجصاص‘‘: وقال العلامة الجصاص: الصدقة تقتضي تملیکا وشرط الصدقة وقوع الملک للمتصدق علیه ۔ (۱۶۱/۳)

ما في ’’المسند للإمام أحمد بن حنبل‘‘: لقوله علیه السلام: ’’لا تبیعوا اللحوم الھدي والأضاحي فکلوا وتصدقوا واستمتعوا بجلودھا ولا تبیعوھا‘‘۔ (۴۹۴/۱۲)

ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: فإن بیع اللحم أو الجلد به أي بمستھلک أو بدراھم تصدق بثمنه ومفاده صحة البیع مع الکراهة وهو قول أبي حنیفة ومحمد رحمهما الله  لقیام الملک والقدرة علی التسلیم ۔ (۳۹۸/۹ ، البحر الرائق:۳۲۷/۸ ، تبیین الحقائق:۴۸۶/۶، إعلاء السنن:۲۸۰/۱۷)

اوپر تک سکرول کریں۔