مسئلہ:
کسی شخص نے کوئی جانور چوری کرکے اس کی قربانی کردی تو قربانی جائز نہ ہوگی ، کیوں کہ وہ اس جانورکا مالک نہیں اور نہ ہی اصلِ مالک کی طرف سے جائز ہوگی ، کیوں کہ اس کی طرف سے اس کی اجازت نہیں ہے، البتہ ذبیحہ حلال ہے ، لیکن مالک کی اجازت حاصل کیے بغیر اس گوشت کا استعمال جائز نہیں۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: قال العلامة ابن عابدین رحمه الله تعالی: قال في البدائع: غصب شاة فضحی بها عن نفسه لا تجزئه لعدم الملک ولا عن صاحبها لعدم الإذن۔(۴۰۱/۹،الاختیارلتعلیل المختار:۴۷۱/۲ ، حاشیة الشلبي علی تبیین الحقائق:۴۸۸/۶)
(احسن الفتاوی : ۵۰۵/۷)
