مسئلہ:
ہر عاقل ، بالغ کو خواہ مرد ہو یا عورت خود اپنانکاح کرنے کا حق حاصل ہے ، اور جو بالغ نہیں یا جس کا دماغی توازن صحیح نہ ہو تو ان کے نکاح کا اختیار ان کے اولیاء کو حاصل ہے ، اس سلسلے میں لڑکی اور لڑکے کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’فتح باب العنایة ‘‘: نفذ نکاح حرة مکلفة سواء کانت ثیباً أو بکراً وسواء زوجت نفسها أو غیرها۔
(۳۰/۲ ، فصل في الأولیاء والأکفاء ، الاختیار لتعلیل المختار : ۱۱۱/۲، فصل في الأولیاء والأکفاء)
ما في ’’مجمع البحرین‘‘: ونجیزه بعبارة النساء فلو زوجت نفسها وهي حرة عاقلة أو وکلت غیرها أو توکلت به جاز من غیر ولي ۔
(ص۵۱۷، فصل في الأولیاء ولأکفاء ، الفتاوی الهندیة:۲۸۴/۱، فصل في الأولیاء والأکفاء ، ملتقی الأبحر مع مجمع الأنهر:۴۸۸/۱ ، باب الأولیاء والأکفاء ، الدر المنتقی في شرح الملتقی مع المجمع : ۴۸۹/۱)
