مسئلہ:
اولیاء کی جانب سے بالغ لڑکے یا لڑکی کو ان کی خواہش اور رضا کا خیال کیے بغیر کسی رشتہ پر مجبور کرنا قطعاً جائز نہیں ہے، لہذا اولیاء کا اپنی رائے پر اصرار اور اس پر مجبور کرنے کے لیے طرح طرح کی دھمکیاں دینا اسلام کے دیئے ہوئے حقوق سے محروم کرنے کی ناروا کوشش ہے، جو کسی طرح درست نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’الدر المنتقی في شرح الملتقی‘‘: ولا یجبر ولي بالغة علی النکاح ولو بکراً لانقطاع الولایة بالبلوغ فلا یجبر حر بالغ بالأولی۔
(۴۹۰/۱ ، فصل في الأولیاء والأکفاء ، الدر المختار مع الشامیة :۱۱۸/۴، باب الولي، مجمع الأنهر :۴۹۰/۱ ، مختصر الوقایة:۳۵۵/۱)
ما في ’’الفتاوی الهندیة ‘‘: لا یجوز نکاح أحد علی بالغة صحیحة العقل من أب أوسلطان بغیر إذنها بکراً کانت أوثیباً فإن فعل ذلک فالنکاح موقوف علی إجازتها فإن أجازته جاز وإن ردّته بطل ۔ (۲۸۷/۱)
ما في ’’الاختیار لتعلیل المختار‘‘: ولا إجبار علی البکر البالغة في النکاح والسنة للولي أن یستأمر البکر قبل النکاح۔(۱۱۴/۲، فصل في الأولیاء والأکفاء)
