آرڈر دینے والے کا قیمت ادا نہ کرنے کی صورت میں بلڈر کا کسی دوسرے کے ہاتھ فلیٹ فروخت کرنا

مسئلہ:

اگر کسی بلڈر کو کوئی مکان کے بنانے کا آرڈر دیا جائے اور اس میں مکانیت ، رقبہ ، لمبائی ،چوڑائی ، اونچائی ، دروازوں اور کھڑکیوں وغیرہ کی تفصیلات کی وضاحت بھی کر دی جائے ، مکان بن کر تیار ہوجائے اور آرڈر دینے والا اس کی قیمت ادا نہ کر ے ، تو بلڈر اس مکان کو کسی اور کے ہاتھ فروخت کرسکتا ہے ، جب کہ یہ مکان آرڈر دینے والے شخص کو نہ بتایا گیا ہو، کیوںکہ معاملہ کی اس صورت کو استصناع کہتے ہیں ، اور اس میں جب تک آرڈر دینے والا آرڈر کردہ شی ٔ کو دیکھ نہیں لیتا وہ متعین نہیں ہوتی ہے ، اور صانع یعنی کاریگر کو کسی اور کے ہاتھ فروخت کرنا جائز ہوتا ہے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ الشامیة  ‘‘: الاستصناع هو لغة طالب الصنعة وأما شرعاً فهو طالب العمل منه في شيء خاص علی وجه مخصوص ۔

(۳۶۵/۷ ، کتاب البیوع، باب السلم ، مطلب الاستصناع)

ما في’’ الفقه الإسلامي وأدلته ‘‘: وحکم الاستصناع : ثبوت الملک للمستصنع في العین المصنوعة في الذمة وثبوت للصانع في البدل المتفق علیه وإنه عقد غیر لازم قبل الصنع وبعد الفراغ من الصنع في حق الصانع والمستصنع معاً فیکون لکل من العاقدین الخیار في إمضاء العقد أو فسخه والعدول عنه قبل رؤیة المستصنع الشيء المصنوع ۔ (۳۶۵۰/۵)

ما في ’’ الفقه الحنفي في ثوبه الجدید ‘‘: الاستصناع عقد غیر لازم قبل العمل من الجانبین بلا خلاف حتی کان لکل واحد منهما خیار الامتناع عن العمل کالبیع بالخیار للمتابعین فإن لکل منهما الفسخ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وإن باعه الصانع قبل أن یراه المستصنع جاز وهذا هو ظاهر الروایة ۔(۳۰۲/۴ – ۳۰۴ ، الاستصناع)

ما في ’’ المبسوط للسرخسي ‘‘: وإذا عمله الصانع فقبل أن یراه المستصنع باعه یجوز بیعه من غیره لأن العقد لم یتعین في هذا۔(۱۶۷/۱۲، کتاب البیوع)

ما في’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: وإن باعه الصانع قبل یراه جاز بیعه۔(۳۶۷/۷ ، کتاب البیوع، باب السلم ، مطلب في ترجمة البردعي)

ما في ’’ الفقه الإسلامي وأدلته ‘‘: فلو باع الصانع الشيء المصنوع قبل أن یراه المستصنع جاز لأن العقد غیر لازم والمعقود علیه لیس هو عین المصنوع وإنما مثله في الذمة ۔

(۳۶۵۰/۵ ، ۳۶۵۱ ، درر الحکام شرح مجلة الأحکام :۴۲۵/۱ ، المادة :۳۹۲)

اوپر تک سکرول کریں۔