مسئلہ:
اگر کسی شخص نے قسطوں پر فلیٹ خریدا اور وہ قسطوں کے ادا کرنے کے موقف میں نہ ہو اور فلیٹ ابھی بن کر تیار نہ ہوا ہو تو وہ شخص اس فلیٹ کو کسی اور کے ہاتھ فروخت نہیں کرسکتا، کیوں کہ شرعِ اسلامی نے اس چیز کی بیع سے منع کیا ہے جو ابھی وجود میں نہیں آئی(۱)، لیکن اگر فلیٹ تیار ہو چکا ہو تو اس کو فروخت کرسکتا ہے چاہے زیادہ قیمت میں یا کم قیمت میں، خواہ ابھی یہ فلیٹ اس کے قبضہ میں نہ آیا ہو، کیوں کہ اموالِ غیر منقولہ (جن چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جاسکتا) کو قبضہ سے پہلے بھی فروخت کیا جاسکتاہے(۲)۔
الحجة علی ما قلنا
(۱) ما في’’ الموسوعة الفقہیة ‘‘: للمبیع شروط ہي أن یکون المبیع موجوداً حین العقد فلا یصح بیع المعدوم وذلک باتفاق الفقہاء ۔(۱۴/۹، البیع)
ما في ’’ درر الحکام شرح مجلة الأحکام ‘‘: المال ہو یمیل إلیہ طبع الإنسان ویمکن ادخارہ إلی وقت الحاجة منقولاً أو غیر منقولاً ۔۔۔۔۔۔۔ ولما کان المعدوم لا یمکن إحرازہ ولا ادخارہ فلیس بمال والبیع بما لیس بمال باطل فبیع المعدوم باطل ۔(۱۷۷/۱، المادة :۱۹۷)
(۲) وفیہ أیضاً : للمشتري أن یبیع المبیع للآخر قبل قبضہ إن کان عقاراً وإلا فلا ۔(۲۳۷/۱ ، المادة :۲۵۳)
ما في ’’ الہدایة ‘‘: ویجوز بیع العقار قبل البقض عند أبي حنیفة وأبي یوسف ۔
(۷۴/۲ ،کتاب البیوع ، باب التولیة ، مجمع الأنہر :۱۱۳/۳، کتاب البیوع ، باب المرابحة والتولیة ، البحر الرائق :۱۹۳/۶، کتاب البیوع ، باب المرابحة والتولیة ، فصل)
