قسطیں ادا نہ کرنے پر فلیٹ دوسرے کو فروخت کردینا

مسئلہ:

اگر کسی شخص نے بلڈر کے پاس فلیٹ کی بکنگ کرائی اور قیمت ادا کرنے کے لیے کوئی مدت متعین کی اور بلڈر نے معاملہ طے کرتے وقت یہ شرط لگائی کہ اگر وقت پر قسطیں ادا نہیں کی گئیں تو مجھے اس معاملہ کو ختم کرنے کا اختیار ہوگا اور بکنگ کرنے والے شخص نے اس شرط کو تسلیم بھی کرلیا ، تو مقررہ مدت میں قسطیں ادا نہ کرنے کی صورت میں بلڈر کو یک طرفہ معاملہ کو ختم کرنے کا اختیار ہوگا، فقہ کی اصطلاح میں اس کو خیارِ نقدسے تعبیر کیا جاتا ہے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ الہدایة ‘‘: ولو  اشتری شیئًا شخص علی أنہ إن لم ینقد الثمن إلی  ثلاثة أیام فلا بیع بینہما جاز وإلی أربعة أیام لا یجوز عندہما وقال محمد : یجوز إلی أربعة أیام وأکثر ۔

(۳۰/۲ ، باب خیار الشرط ، الجوہرة النیرة:۴۴۳/۱ ، الدر المختار مع الشامیة : ۸۴/۷ ، کتاب البیوع ، مطلب خیار النقد، فتح باب العنایة :۳۱۰/۲ ، باب خیار الشرط ، الفتاوی الہندیة: ۳۹/۳ ، في خیار الشرط)

اوپر تک سکرول کریں۔