مسئلہ:
اگر کسی شخص نے قسطوں پر فلیٹ خریدا اور مقررہ مدت میں پوری قسط ادا نہ کرسکا اور تاخیر سے قسطوں کی ادائیگی کی وجہ سے بیچنے والے کے مطالبہ کے بغیر قیمت بڑھاکر ادا کرے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور بیچنے والے کو اس کا لینا بھی جائز ہے ۔
الحجة علی ما قلنا
ما فی ’’البنایة فی شرح الہدایة‘‘: ویجوز للمشتری أن یزید للبائع فی الثمن، قال تاج الشریعة: شرط صحة الزیادة فی الثمن فی ظاہر الروایة بقاء المبیع وکون المبیع محلاً للمقابلة فی حق المشتری حقیقة ۔ (۳۲۹/۷، باب المرابحة والتولیة)
ما فی ’’ الہدایة ‘‘ : ویجوز للمشتری أن یزید للبائع فی الثمن ۔(۷۵/۲، باب المرابحة والتولیة، المختصر القدوری: ۸۱)
ما فی ’’خلاصة الفتاوی‘‘: فی الجامع الکبیر: الزیادة فی الثمن والمثمن جائز حال قیامہما سواء کانت الزیادة من جنس الثمن أو من غیر جنسہ ویلتحق بأصل العقد ولو ندم المشتری بعد ما زاد یجبر ان امتنع ۔ (۳/۹۳، کتاب البیوع، جنس آخر)
ما فی ’’المعتصر الضروری‘‘: ویجوز للمشتری أن یزید للبائع ما دام قیام المبیع فی الثمن ۔ (۳۱۹، باب المرابحة والتولیة)
