مسئلہ:
آج کل’’ جیونا‘‘نام سے ایک کمپنی قائم ہے ،جس کی اسکیم یہ ہے کہ پینتیس سو (۳۵۰۰)روپے دیکر اس کے ممبر بن جاؤ اور ان ساڑ ھے تین ہزار کے عوض کمپنی کوئی شیٔ نہیں دے گی، لیکن اگر یہ ممبر کم سے کم مزید دو ممبرکمپنی کے لئے بنا دیتا ہے ، یعنی یوں کہیے کہ کمپنی کو سات ہزار(۷۰۰۰) روپے دوسرے دو فردوں سے لادیتا ہے، تو کمپنی اسے اس میں سے بطورِ کمیشن چھ سو (۶۰۰) روپئے ادا کرے گی اورا گر ان دو ممبروں میں سے ہر ممبر دودو ممبر بنا تاہے، توجہاں ان دو ممبروں کو چھ چھ سو(۶۰۰۔۶۰۰) روپئے بطورِ کمیشن ملیں گے، وہیں پہلے ممبرکومزیدبارہ سو(۱۲۰۰) روپئے ملیں گے، یعنی کل اٹھارہ سو(۱۸۰۰) روپئے ملیں گے اور اگر یہ چا ر ممبر وں میں سے ہر ممبر دودو ممبر بناتا ہے، توان میں سے ہر ایک کو چھ چھ سو(۶۰۰ ۔۶۰۰) اور پہلے کو گذشتہ کے اٹھارہ سو(۱۸۰۰) میں مز ید چوبیس سو(۲۴۰۰) روپئے ملاکر، یعنی کل بیالیس سو(۴۲۰۰) روپئے دیئے جائینگے اور جیسے جیسے یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہیگا ویسے ویسے پہلے ممبر کو بھی ہرممبر پر کمیشن ملتا رہیگا ۔
اسکیم کی یہ صورت جوا اور باطل طریقہ سے لوگوں کے اموال کھا نے کی حرمتِ صریحہ پر مشتمل ہے، اس لئے اس طر ح کی اسکیموں کا ممبربننا اور بنانا دونوں عمل شرعاً ناجائز وحرام ہے اور اس پرملنے والا کمیشن بھی حرام ہے ،اس لئے اس طر ح کی اسکیموں میں شرکت سے کلی اجتناب ضروری ہے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘:{یآیھا الذین آمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطٰن فاجتنبوه لعلکم تفلحون} ۔ (سورة المائدة:۹۰)
ما في ’’ البحر المحیط لأبي حیان الغرناطي ‘‘: بین تعالی تحریم الخمر والمیسر لأن ھذه اللذة یقارنھا مفسدة عظیمة ۔ والمیسر فیه أخذ المال بالباطل ۔ (۲۰/۴)
وما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {یآیھا الذین آمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل } ۔(سورة النساء :۲۹)
ما في ’’ تفسیر الکبیر ‘‘ : لا تأکلوا أموالکم التي جعلتموه بینکم بطریق غیر مشروع ۔ (۵۶/۴)
ما في ’’ الموسوعة الفقھیة ‘‘: ما یکسبه المقامرة ھو کسب خبیث وھو من المال الحرام مثل کسب المخادع والمقامر ، والواجب في الکسب خبیث تفریغ الذمة منه برده إلی أربابه إن علموا وإلا إلی الفقراء ۔ (۴۰۷/۳۹ ، المیسر)
وما في ’’ الموسوعة الفقھیة ‘‘: قال ابن حجر المکي : المیسر القمار بأي نوع کان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتفق الفقھاء علی تحریم میسر القمار ۔(۴۰۶/۳۹)
ما في ’’ الموسوعة القواعد الفقهیة ‘‘ : ’’ ما أفضی إلی الحرام کان حراماً ‘‘۔ (۴۲/۹)
ما في ’’ الشامیة ‘‘:’’ ما کان سبباً لمحظور فھو محظور ‘‘۔ (۲۳۳/۵، مکتبه نعمانیه)
