مقروض متولئ مسجد کوقرض سے بری کرنے کا کسی کو حق نہیں

مسئلہ:

اگر متولی کے ذمہ مسجد کی کوئی رقم واجب الاداء ہو اور وہ ادا کرنے کی قدرت نہ رکھنے کی صورت میں عام مسلمانوں یا جدید متولی سے معافی کا خواستگا رہو تو کسی کو معاف کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ، کیوں کہ یہ وقف کی رقم ہے جو اللہ کی ملک ہے اور بندہ اللہ کی ملک میں تصرف کا مجاز نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘ : الوقف هو حبسها علی حکم ملک الله تعالی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ قوله : (علی حکم ملک الله تعالی) المراد أنه لم یبق علی ملک الواقف ولا انتقل إلی ملک غیره بل صار علی حکم ملک الله تعالی الذي لا ملک فیه لأحد سواه۔(۴۰۸/۶ ، کتاب الوقف)

ما في ’’ الموسوعة الفقهیة ‘‘ : الأصل أن حقوق الله سبحانه وتعالی لاتقبل الإسقاط من أحد من العباد لأنه لا یملک الحق في ذلک ومن حاول إسقاط حق من حقوق الله تعالی فإنه یقاتل کما فعل أبو بکر رضي الله عنه بمانعي الزکاة ۔ (۲۴/۱۸)

وما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : ومنها اکار تناول من مال الوقف فصالحه المتولي علی شيء والأکار غني لا یجوز الحط من مال الوقف وإن کان الأکار فقیراً جاز ذلک وهو محمول علی ما إذا کان الوقف علی الفقراء ۔ (۴۰۶/۵)

(فتاوی دار العلوم: ۴۳۳/۱۳)

اوپر تک سکرول کریں۔