ہدیہ وضیافت کس کا قبول کیا جائے اور کس کا نہیں؟

مسئلہ:

اگر کوئی شخص کسی کو کوئی ہدیہ دے ، یا اس کی ضیافت ومہمانی کرے اور اس کا غالب واکثر مال حرام ہے، تواس وقت تک اس کا ہدیہ یاضیافت قبول نہ کرے جب تک کہ وہ اس بات کی وضاحت نہ کردے کہ یہ ہدیہ یا ضیافت مالِ حلال سے ہے ، میں نے فلاں سے قرض لیکر یا وراثت میں ملے مال سے اس کا انتظام کیاہے ، اور اگرہدیہ دینے والے یا ضیافت کرنے والے کا غالب واکثر مال حلال ہے تو اس کا ہدیہ یا ضیافت قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، تاآنکہ یہ معلوم نہ ہو کہ یہ مالِ حرام سے ہے۔

یہ تفصیل اس لیے کی جاتی ہے کہ لوگوں کے مال، حرامِ قلیل سے خالی نہیں ہوتے جب کہ حرامِ کثیر سے خالی ہوتے ہیں ، اس لیے غالب کا اعتبار کرتے ہوئے حکم اسی پر مبنی ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ شرح السیر الکبیر ‘‘ : وعن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: ’’ للسلطان نصیب من الحلال والحرام فإذا أعطاک شیئاً فخذه فإن ما یعطیه حلال لک ‘‘ ۔ وحاصل المذهب فیه أنه إن کان أکثر ماله من الرشوة والحرام لم یحل قبول الجائزة منه ما لم یعلم إن ذلک له من وجه حلال ، وإن کان صاحب تجارة أو زرع أکثر ماله من ذلک فلا بأس بقبول الجائزة منه ما لم یعلم أن ذلک له من وجه حرام ۔(۷۲/۱، باب صلة المشرک)

ما في ’’ المحیط البرهاني في الفقه النعماني ‘‘ : رجل أهدی إلی إنسان أو أضافه إن کان غالب ماله من حرام لا ینبغي أن یقبل ویأکل من طعامه ما لم یخبر أن ذلک المال حلال استقرضه أو ورثه ۔ وإن کان غالب ماله من حلال فلا بأس بأن یقبل ما لم یتبین له أن ذلک من الحرام وهذا  لأن أموال الناس لا تخلو عن قلیل حرام وتخلو عن کثیرة فیعتبر الغالب ویبني الحکم علیه ۔( ۱۱۰/۶، الفتاوی الهندیة :۳۴۲/۵ ،کتاب الکراهیة ، الباب الثاني عشر في الهدایا والضیافات)

ما في ’’ الاختیار لتعلیل المختار ‘‘ : لا یجوز قبول الهدیة أمراء الجور لأن الغالب في مالهم الحرمة۔قال: إذا علم أن أکثر ماله حلال بأن کان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به لأن أموال الناس لا تخلو عن قلیل حرام والمعتبر الغالب وکذلک أکل طعامهم ۔

(۴۳۶/۲،کتاب الکراهیة ، باب في الکسب ، مجمع الأنهر في شرح ملتقی الأبحر:۱۸۶/۴، کتاب الکراهیة ، فصل في الأکل ، الفتاوی البزازیة علی هامش الهندیة :۳۶۰/۶، کتاب الکراهیة ، في الهدیة والمیراث، فتاوی قاضیخان علی هامش الهندیة :۴۰۰/۳ ، کتاب الکراهیة)

ما في ’’ جمهرة القواعد الفقهیة ‘‘ : ’’ الحکم علی الغالب دون الفاسد ‘‘۔ (۷۲۴/۲، رقم القاعدة:۸۳۱)

اوپر تک سکرول کریں۔