مناظرہ کرناکب واجب ہوتا ہے؟

مسئلہ:

جب اہلِ باطل متردد اور حق کا طالب ہو اور عقائدِ اسلامیہ ومسائلِ قطعیہ سے متعلق اپنے شکوک وشبہات کو صاف کرنا چاہتا ہے اور اس غرض سے گفتگو یا مناظرہ کی دعوت دیتا ہے، تو جو شخص حق کی تائید پر قادر اور اہلِ باطل سے مناظرہ کا عالم ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی شخص اس کا اہل نہیں ہے تو اس پر اس کے ساتھ مناظرہ کرنا فرضِ عین ہے، اور اگر اس کے علاوہ اور بھی لوگ اس کی اہلیت وقدرت رکھتے ہوں تو ان کے لیے مناظرہ کرنا فرضِ کفایہ ہے۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ الموسوعة الفقهیة الکویتیة ‘‘ : تکون المناظرة واجبة في حالات : منها نصرة الحق بإقامة الحجج العلمیة والبراهین القاطعة وحل المشکلات في الدین عن تمویهات المبتدعین ومعضلات الملحدین ۔۔۔۔۔۔۔  وهي فرض عین إذا لم یوجد سوی عالم واحد وکان أهلاً للمناظرة في الحالات التي تجب فیها ۔۔۔۔ وتکون فرض کفایة في حالات : منها إذا کان هناک من أهل العلم غیر واحد قادر علی المناظرات الواجبات۔(۷۶/۳۹ ، احکام مناظره: علامه اشرف علی تھانوی رحمة الله علیه:ص:۱۲)

ما في ’’ المقاصد الشرعیة للخادمي ‘‘ : إن الذرائع تعد وسائل إلی المقاصد وحکمها حکم مقاصدها من حیث التحریم والوجوب والکراهیة والندب والإباحة أي ’’ أن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرماً وتکون واجبة إذا کان المقصد واجباً ‘‘ فالزنا محرم ممنوع ولذلک حرمت ذرائعه ووسائله ، ومنها الخلوة بشهوة ، والجمعة واجبة لازمة ولذلک وجب فعل ذرائعها ووسائلها ومنها السعي والتطهر والنیة ۔ (ص: ۴۶)

اوپر تک سکرول کریں۔