(فتویٰ نمبر: ۲۴۶)
سوال:
ایک آدمی بہت مجبور ہے کہ اشارہ سے بھی نماز نہیں پڑھ سکتا ، اگر کوئی دوسرا شخص اس کے بدلہ میں پڑھ لیوے تو اس شخص کے ذمہ سے فرض ادا ہو جائے گا یا نہیں؟ جیسے کہ حج دوسرے کا حج بدل ہوجاتا ہے، اور وہ ایسا غریب شخص ہے کہ اس کا کفارہ بھی نہیں دے سکتا، اسی طرح روزے کا کیا حکم ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
اگر شخصِ مذکور واقعةً اتنا بیمار اور ضعیف ہے کہ نہ کھڑے ہوکر نماز پڑھ سکتا ہے ، نہ بیٹھ کر، نہ لیٹ کر ، نہ رکوع کرسکتا ہے نہ اشارہ، نہ روزہ رکھ سکتا ہے اور نہ حج کرسکتا ہے، اور اسی حالت میں کچھ مدت تک زندہ رہ کر مرجائے، تو یہ سب عبادتیں اس سے معاف ہیں، کوئی فدیہ یا وصیت واجب نہیں (۱)، اور کسی دوسرے شخص کا اس کے بدلے نماز پڑھنا بھی شرعاً صحیح نہیں ہے۔ (۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿اَلَّذِینَ یَذْکُرُونَ اللَّه قِیَاماً وَقُعُوداً وَعَلَیٰ جُنُوبِهمْ ﴾۔(سورة التغابن :۱۶)
ما في ” نصب الرایة للزیلعي “ : یصلي المریض قائمًا فإن لم یستطع فقاعدًا ، فإن لم یستطع فعلی قفاه یوٴمي إیماءً ، فإن لم یستطع فاللّٰه أحق بقبول العذر منه ۔
(۱۷۹/۲ ، کتاب الصلاة ، باب صلاة المریض)
ما في ” المبسوط للسرخسي “ : المریض إذا کان قادرًا علی القیام یصلي قائمًا ، فإذا عجز عن القیام یصلي قاعدًا برکوع وسجودٍ ، وإذا کان عاجزًا عن القعود یصلي بالإیماء ؛ لأنه وسع مثله ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فلو أنه عجز عن الإیماء بالرأس سقط عنه الصلاة عند علمائنا الثلاثة ۔(۳۷۵/۱ – ۳۸۰ ، کتاب الصلاة ، باب صلاة المریض)
ما في ” مراقي الفلاح مع حاشیة الطحطاوي “ : إذا مات المریض ولم یقدر علی أداء الصلاة بالإیماء برأسه لا یلزمه الإیصاء بها ، وإن قلت بنقصها عن صلاة یوم ولیلةٍ ۔
(ص/۴۳۶ ، ط : مکتبة شیخ الهند ، الفتاوی الهندیة :۱۳۷/۱ ، الباب الرابع عشر في صلاة المریض ، البحر الرائق :۲۰۴/۲ ، باب صلاة المریض)
(۲) ما في ” تنویر الأبصار مع الدر والرد “ : الصلاة وهي عبادة بدنیة محضة فلا نیابة فیها أصلا ۔ (۱۰/۲ ، کتاب الصلاة)
(فتاویٰ محمودیه :۴۴۵/۷) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۷/۲۰ھ
