(فتویٰ نمبر: ۲۲)
سوال:
مسجد” السلام“ میں کچھ لوگ بعد ختمِ نمازِ عشا آتے ہیں اور اپنی علیحدہ جماعتِ ثانیہ کرتے ہیں ،اوریہ عمل ان کا معمول بنتا جارہا ہے ، دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسی مسجد (جس میں پانچ وقت کی نمازیں اوقاتِ متعینہ کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں)میں دوسری جماعت، مسجد کے صحن یا بالائی حصے میں کرنا، جس سے سنن و نوافل پڑھنے والوں کو تکلیف وحرج بھی ہوتا ہے، درست ہے یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
مسجد” السلام“ میں جماعثِ ثانیہ علیٰ ہیئت الاولیٰ یعنی اذان واقامت کے ساتھ یا بلا اذان واقامت ،ایک دوسرے کو دعوت دے کر، یا اس کا مستقل معمول کرنا مکروہِ تحریمی ہے، ہاں! کبھی کبھار اتفاقاً بلا اذان واقامت وبلا تداعی اور کسی کو تکلیف پہنچا ئے بغیر جماعتِ ثانیہ کی جائے، تو کوئی مضائقہ نہیں۔
سوالِ مذکور میں ”مسجد السلام“ مسجد محلہ کے حکم میں ہے، اس لیے اس میں جماعتِ ثانیہ کا مستقل معمول بنانا مکروہِ تحریمی ہے، اورجب اس عمل سے سنن ونوافل میں مشغول دیگر مصلیوں کو تکلیف پہنچتی ہو ،تو اس کی کراہت اور بھی بڑھ جائے گی۔
( سوالِ مذکور کا تفصیلی جواب)!
مسجد کی دو قسمیں ہیں: مسجد طریق، مسجد محلہ
مسجد طریق: (جس میں اذان واقامت اور جماعت پابندی سے ادا نہ ہوتی ہو، اور امام وموٴذن بھی متعین نہ ہوں ) میں جماعتِ ثانیہ علی ہیت الاولیٰ ،یعنی اذان واقامت کے ساتھ اور علیٰ غیر ہیئت الاولیٰ ،یعنی بلا ذان واقامت مطلقاً درست ہے ۔
رہی مسجد محلہ ، تو اس میں جماعت ِ ثانیہ کی چار صورتیں ہو سکتی ہیں :
۱– جماعتِ ثانیہ علی ہیئت الاولیٰ یعنی اذا ن واقامت کے ساتھ عند الاحناف مکروہ ِتحریمی ہے۔(۱)
۲– جماعتِ ثانیہ علی ہیئت الاولیٰ مکروہِ تنزیہی ہے ۔(۲)
۳– جماعتِ ثانیہ ہیئتِ اولیٰ پر نہ ہو(۳) ، صحن میں ہو، اتفاقاً وکبھی کبھار ہو اور سنن و نوافل پڑھنے والوں کو کسی قسم کا خلل وتکلیف نہ ہو ،تو کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔(۴)
۴– مسجدِ محلہ میں جماعتِ ثانیہ کے لیے ایک دوسرے کو دعوت دینا، یا اس کا مستقل معمول بنانا مکروہِ تحریمی ہے۔(۵)
نوٹ-: سوال مذکور میں ”مسجد السلام “ مسجد محلہ کے حکم میں ہے ، اس لیے اس میں جماعتِ ثانیہ کا مستقل معمول بنانا مکروہِ تحریمی ہے، اور جب اس عمل سے سنن ونوافل میں مشغول دیگر مصلیوں کو تکلیف ہوتی ہو، تو اس کی کراہت اور بھی بڑھ جائے گی۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱)ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ویکره تکرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طریق أو مسجد لا إمام له ولا موٴذن ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (ویکره) تحریمًا لقول الکافي: لایجوز، والمجمع : لا یباح ، وشرح الجامع الصغیر : أنه بدعة کما في رسالة السندي ، ومثله في البدائع وغیرها، ومقتضی هذا الاستدلال کراهة التکرار في مسجد المحلة ولو بدون أذان ۔(۲۸۸/۲، ۲۸۹، البحر الرائق :۶۰۵/۱ ، کتاب الصلاة ، باب الإمامة)
ما في ” المبسوط للسرخسي “ : وإذا دخل القوم مسجدًا قد صلی فیه أهله کرهت لهم أن یصلوا جماعة بأذان وإقامة ، ولکنهم یصلون وحدانًا بغیر أذان ولا إقامة لحدیث الحسن قال: کانت الصحابة إذا فاتتهم الجماعة فمنهم من اتبع الجماعات، ومنهم من صلی في مسجد بغیر أذان ولا إقامة، وفي الحدیث: أن النبي ﷺ خرج لیصلح بین الأنصار فاستخلف عبد الرحمن بن عوف، فرجع بعد ما صلی فدخل رسول اللّٰه ﷺ بیته وجمع أهله فصلی بهم بأذان وإقامة ۔ (۱۳۵/۱، رد المحتار :۲۸۸/۲)
ما في”مجمع الزوائد“:عن أبي بکرة أن رسول اللّٰه ﷺ أقبل من نواحي المدینة یرید الصلاة فوجد الناس قد صلوا، فمال إلی منزله فجمع أهله فصلی بهم۔(۱۳۵/۲،ط:بیروت)
(بدائع الصنائع :۶۵۴/۱، ۶۵۵، کتاب الصلاة ، الفتاوی الهندیة :۸۳/۱ ، کتاب الصلاة)
(۲) ما في ” رد المحتار “ : عن أبي یوسف أنه إذا لم تکن الجماعة علی الهیئة الأولی لا تکره، وإلا تکره، وهو الصحیح، وبالعدول عن المحراب تختلف الهیئة ، کذا في البزازیة ۔ وفي التاتار خانیة عن الولوالجیة : وبه نأخذ ۔ (۲۸۹/۲ ، الفتاوی البزازیة علی هامش الفتاوی الهندیة : ۵۶/۴ ، حلبي کبیر : ص/۶۱۵)
(۳) ما في ” رد المحتار “ : عن أبي یوسف أنه إذا لم تکن الجماعة علی الهیئة الأولی لا تکره، وإلا تکره، وهو الصحیح، وبالعدول عن المحراب تختلف الهیئة ، کذا في البزازیة ۔ وفي التاتار خانیة عن الولوالجیة: وبه نأخذ۔
(۲۸۹/۲ ، الفتاوی البزازیة علی هامش الهندیة :۴/۵۶ ، الباب الخامس عشر في الإمامة والاقتداء، نوع فیما یکره وما لا یکره ، حلبي کبیر:ص/۶۱۵، کتاب الصلاة ، مسائل متفرقة)
(۴) ما في ” مجمع الزوائد “ : قال النبي ﷺ : ” من أکل من هذه الشجرة الخبیثة فلا یقربنا “ ۔(۹۵/۲)
ما في ” رد المحتار “ : و ألحق بالحدیث کل من أذی الناس بلسانه ، وبه أفتی ابن عمر ، وهو أصل في کل من یتأذی به ، قال الإمام العیني في شرحه علی صحیح البخاري : قلت : وعلة النهي أذی الملائکة وأذی المسلمین ۔ (۴۳۵/۲)
(۵) ما في ” بدائع الصنائع “ : وروي عن محمد إنما یکره إذا کانت الثانیة علی سبیل التداعي والاجتماع ۔ (۶۵۴/۱) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۲/۲ھ
