نماز سے خارج شخص کے انتباہ پر سجدہ سے سر اٹھانا!

(فتویٰ نمبر: ۳۷)

سوال:

امام کی آواز نہ سننے کی وجہ سے مقتدی سجدہ ہی میں تھے ، باہر سے کسی شخص نے ”اللہ اکبر“ کہا ،اس کے انتباہ پر ان لوگوں نے سجدہ سے سر اٹھایا، تو کیا باہر سے کسی شخص کے اس طرح انتباہ پر سجدہ سے سر اٹھانے کی وجہ سے ان کی نماز فاسد ہوگی یا نہیں ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

اگر ان مقتدیوں نے نماز سے باہر شخص کے انتباہ پر فوراً سجدہ سے سر اٹھالیا، تو ان کی نماز فاسد ہوگی، اور اگر انتباہ کے بعد کچھ دیر سجدہ ہی میں رہے،پھر اپنے طور پر سجدہ سے سر اٹھالیا تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الفقه الإسلامي وأدلته “: کما تبطل الصلاة بإرشاد غیر المصلي له أو بامتثال أمر الغیر کأن یطلب منه غیره سد فرجة فامتثل وسدها ، وإنما ینبغي أن یصبر وقتًا ثم یفعل من تلقاء نفسه ۔

(۱۰۲۸/۲ ، ط : مکتبه رشیدیه کوئٹه) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۳/۶ھ

اوپر تک سکرول کریں۔