(فتویٰ نمبر: ۹۹)
سوال:
۱-اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ نماز کے وقت پتلون ہو یا پائجامہ جو ٹخنوں سے نیچے لٹکتا ہے اس کو باہر کی جانب موڑ دیتے ہیں ،جوکہ مستقل ٹخنوں کے اوپر ہونا چاہیے،تو کیا ایسا کرنے سے نماز مکروہ ہوجاتی ہے؟ یاایسا کرنا با لکل منع ہے ؟
۲-اکثر بمبئی کی مسجدوں میں دیکھا گیا ہے کہ چٹائی کی ٹوپیاں رکھی جاتی ہیں، جو کہ اکثر بوسیدہ حالت میں ہوتی ہیں، لوگ انہیں پہن کر نماز ادا کرتے ہیں اور پھر وہیں پر رکھ کر چلے جاتے ہیں، اگرچہ نماز میں کچھ کمی آتی ہے، تو ٹوپیاں رکھنے والا جو اب دار ہے ،یا انہیں پہن کر نماز ادا کرنے والا ؟ کیا ایسی عارضی ٹوپی پہن کر نماز ادا کرسکتے ہیں ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-ٹخنے سے نیچے پتلون یا پائجامہ لٹکانا خواہ نماز کی حالت میں ہو یا کوئی دوسری حالت میں، شرعاً ممنوع ہے، نیز یہ متکبرین وفساق کا شیوہ ہے، جو اسلامی تہذیب ومعاشرت سے بے زار اور مغربی تہذیب وثقافت کے دل دادہ ہیں، اگر پتلون یا پائجامہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانا ان کے ساتھ تشبہ یا تکبر کی نیت سے ہو تو مکروہِ تحریمی ہے، اور اگر بہ قصدِ تشبہ اور َازراہِ تکبر نہ ہو، تو مکروہِ تنزیہی ہے، نماز چوں کہ نیاز مندی اور عبدیت کا مظہر ہے، اس لیے نماز میں اس کا ارتکاب نسبتاً زیادہ مکروہ ہے۔(۱)
۲-انسان ان پلاسٹک(Plastic) یا چٹائی کی ٹوپیوں کو پہن کر اکابر کی مجالس میں جانا پسند نہیں کرتا، بلکہ معیوب سمجھتا ہے؛اس لیے یہ ٹوپیاں ثیابِ بذلہ کے حکم میں ہیں، لہذا ایسی ٹوپیاں پہن کر نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے، اورچوں کہ ان ٹوپیوں کو مسجد میں رکھنے والا اس کراہتِ تنزیہی کا سبب وذریعہ بنتا ہے، اس لیے پہننے والا اور رکھنے والا دونوں اس کراہت کے مرتکب ہیں،لہٰذا رکھنے اور پہننے دونوں سے پرہیز کیا جائے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” بذل المجهود “ : عن سالم بن عبد اللّٰه عن أبیه قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” من جر ثوبه خیلاء لم ینظر اللّٰه إلیه یوم القیامة “ ۔ فقال أبو بکر : إن أحد جانبي إزاري یسترخی إني لأتعاهد ذلک منه ، قال : ” لست ممن یفعله خیلاء “ ۔ (۱۱۳/۱۲ ، کتاب اللباس ، باب ما جاء في إسبال الإزار ، رقم : ۴۰۸۵)
ما في ” بذل المجهود “ : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” لست ممن یفعله خیلاء “ ۔ فیه فضیلة أبو بکر، قال العلماء : المستحب في الإزار والثوب إلی نصف الساقین ، والجائز بلا کراهة ما تحته إلی الکعبین ، فما نزل عن الکعبین فهو ممنوع ، فإن کان للخیلاء فهو ممنوع منع تحریم وإلا فمنع تنزیه ۔
(۱۱۳/۱۲ ، کتاب اللباس ، باب ما جاء في اسبال الإزار ، رقم الباب : ۲۵)
(شرح النووي علی الصحیح لمسلم :۱۹۴/۲، ۱۹۵، کتاب اللباس ، باب تحریم جر الثوب خیلاء ، مرقاة المفاتیح : ۱۹۸/۸ ، کتاب اللباس ، الفصل الأول ، رقم : ۴۳۱۴)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : إسبال الرجل إزاره أسفل من الکعبین إن لم یکن للخیلاء ففیه کراهة تنزیه،کذا في الغرائب ۔ (۳۳۲/۵ ، الباب التاسع في اللبس)
(حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح: ص/۱۹۲، کتاب الصلاة ، فصل في المکروهات)
(۲) ما في ” مجمع الزوائد “ : عن ابن عمر – رضي اللّٰه عنه – قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” إذا صلی أحدکم فلیلبس ثوبیه ، فإن اللّٰه أحق من یزین له “ ۔ رواه الطبراني في الکبیر ، وإسناده حسن۔ (۱۶۶/۱)
(إعلاء السنن : ۱۳۶/۵ ، باب استحباب الزینة للصلاة وکراهتهما في ثیاب البذلة)
ما في ” إعلاء السنن “ : ودل قوله ﷺ : ” فإن اللّٰه أحق من یزین له “ ۔ علی کراهة الصلاة في ثیاب المهنة التي لا یخرج بها الرجل إلی الأکابر والمجالس والأسواق ۔
(۱۳۶/۵ ، باب استحباب الزینة للصلاة وکراهتهما في ثیاب البذلة)
ما في ” رد المحتار “ : قال في البحر : وفسرها في شرح الوقایة بما یلبسه في بیته ولا یذهب به إلی الأکابر ، والظاهر أن الکراهة تنزیهیة ۔ اه ۔
(۴۰۷/۲ ، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها ، ط : بیروت)
ما في ” منیة المصلي “ : ویکره أن یصلي في ثیاب البذلة والمهنة ۔ (ص/۱۰۵) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفرملی رحمانی۔۱۹/۶/ ۱۴۲۹ھ
الجواب صحیح : عبد القیوم اشاعتی۔۱۹/۶/ ۱۴۲۹ھ
