(فتویٰ نمبر: ۶۵)
سوال:
اگر مسافر محض اپنے وطنِ اصلی سے گزر رہا ہو اور کچھ دیر کے لیے وہاں بس (Bus) رکی ہو ، وہ نیچے اترا بھی نہ ہو تو کیا وہ مقیم ہوجائے گا؟ اب وہ اپنے اس وطنِ اصلی سے ۲۰/ ۲۵، کلو میٹر دوری پر واقع ایک گاوٴں کی طرف سفر کررہا ہے، تو اس گاوٴں میں پہنچ کر وہ نماز پوری پڑھے گا یا قصر کرے گا؟
الجواب وباللہ التوفیق:
اگر مسافر کا محض اپنے وطنِ اصلی سے گزر ہو، وہ گاڑی سے نیچے بھی نہ اترا ہو، تب بھی وہ مقیم ہوگا، اور وہاں سے آگے جس مقام پر جارہا ہے اگر اس کے اور وطنِ اصلی کے درمیان مسافتِ سفرِ شرعی نہ پائی جاتی ہو ، تو وہ اس مقام پر جاکر نمازیں پوری پڑھے گا۔
سوال میں مذکور وطنِ اصلی سے آگے کا سفر ۲۰/ ۲۵ کلو میٹر ہے جو سفرِ شرعی کی مقدار نہیں ہے، اس لیے وہاں پہنچ کر یہ شخص نماز پوری پڑھے گا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” البحر الرائق “ : أو ینوي الإقامة نصف شهر ببلد أو قریة ۔ إلخ ۔ قوله : حتی یدخل مصره أو ینوي إقامة نصف شهر في بلد أو قریة، أي قصر إلی غایة دخول المصر، أو نیة الإقامة في موضع صالح للمدة المذکورة فلا یقصر، أطلق في دخول مصره فشمل ما إذا نوی الإقامة به أو لا ۔(۲۲۵/۲ – ۲۳۰ ، تبیین الحقائق : ۵۱۱/۱)
ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : حتی یدخل موضع مقامه ۔ (تنویر الأبصار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (حتی یدخل موضع مقامه) سواء دخل بنیة الاجتیاز أو دخله لقضاء حاجة ؛ لأن مصره متعین للإقامة فلا یحتاج إلی نیة ۔ ” جوهرة “ ۔ (۶۰۴/۲) (فتاویٰ رحیمیه: ۵/ ۱۷۳) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔ ۲۶/ ۴/ ۱۴۲۹ھ
