مسلمانوں کے ۴۰/ مکانات والے دیہات میں جمعہ!

(فتویٰ نمبر: ۱۹۸)

سوال:

ایک دیہات میں ۴۰/مکانات مسلمانوں کے اور۳۰۰/ مکانات غیرمسلموں کے ہیں، اسی طرح ایک مسجد بھی ہے جس میں نمازِ جمعہ اور نمازِ عیدالاضحی بھی پڑھی جاتی ہے، پوسٹ آفس اور پولس تھانہ توموجود نہیں، مگر کرانہ سامان کی دوکانیں بہت ہیں، جن سے لوگوں کی اکثر ضروریات پوری ہوجاتی ہیں، صرف کپڑے خریدنے اور سلوانے کے لیے اور کچھ سبزی خریدنے کے لیے شہر میں جانا پڑتا ہے، اور نمازِ جمعہ پہلے ہی سے پڑھی جاتی ہے، نمازِ عید الاضحی ۲/یا۳/سال سے پڑھی جاتی ہے اور نمازِ عید الفطر شہر میں پڑھی جاتی ہے، شہر اُس دیہات سے تقریباً ۴/یا ۵/کلومیٹر دوری پر ہے، تو کیا اس دیہات میں نمازِ جمعہ اور نمازِ عید الاضحی پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

صحتِ نمازِ جمعہ کے لیے ایسی بستی کا ہونا ضروری ہے جو حوائجِ اصلیہ کے لیے جامع ہو، جس کو عرف میں شہریا قصبہ کہاجائے، وہاں گلی کوچے ہوں، اشیائے ضرورت ہمیشہ دست یاب ہوں، حکیم یا ڈاکٹر ہوں ،ڈاک خانہ ہو،حاکم یا گرام پنچایت کا انتظام ہو ،ضروری پیشہ ور ہوں، آس پاس کے دیہات والے وہاں سے ضروریات پوری کرتے ہوں،یہ جملہ اُمور ماضی میں تین چار ہزار کی آبادی میں موجود ہوتے تھے، اب تہذیب وتمدن بڑھ رہا ہے، اس سے کم آ بادی والے مقامات پر بھی یہ سب چیزیں موجود ہوتی ہیں، اگر آپ کے مقام پر یہ سب چیزیں موجود ہیں، تو جمعہ صحیح اور درست ہے(۱)،لیکن اگر یہ تمام چیزیں آپ کے گاوٴں میں موجود نہیں ہیں، اس کے باوجود وہاں لوگوں نے ایک عرصہ سے جمعہ پڑھنا شروع کردیا ہے، تو اب اسے بند نہیں کرنا چاہیے،کیوں کہ اس میں دوسرے فتنوں کا اندیشہ ہے، لہٰذا وہاں نمازِجمعہ وعیدین پڑھنا درست ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” رد المحتار “ : تقع فرضا في القصبات والقری الکبیرة التي فیها أسواق ۔ (۸/۳ ، کتاب الصلاة ، باب الجمعة)

ما في ” رد المحتار “ : عن أبي حنیفة أنه بلدة کبیرة فیها سلک وأسواولها رساتیق وفیها وال یقدر علی إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غیره یرجع الناس إلیه فیما یقع في الحوادث ، وهذا هو الأصح ۔(۷/۳ ، کتاب الصلاة ، باب الجمعة، ط: بیروت)

ما في ” فیض الباري “ : واعلم أن القریة والمصر من الأشیاء التي لا تکاد تنضبط بحال وإن نص ولذا ترک الفقهاء تعریف المصر علی العرف ۔ (۴۲۳/۲ ، کتاب الجمعة)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالی : ﴿والفتنة أشد من القتل﴾ (سورة البقرة:۹۱)

مافي” رد المحتار“ : واستشهد له بما في ”التجنیس“ عن الحلواني : إن کسالی العوام إذا صلوا الفجر عند طلوع الشمس لا یمنعون؛ لأنهم إذا منعوا ترکوها أصلا ، وأداوٴها مع تجویز أهل الحدیث لها أولی من ترکها أصلا ۔ (۴۹/۳)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : تجب صلاتهما في الأصح علی من تجب علیه الجمعة بشرائطها المتقدمة سواء الخطبة فإنها سنة بعدها ۔ (در مختار) ۔

(۴۲/۳ ، کتاب الصلاة ، باب العیدین)

(فتاویٰ محمودیه :۱۵۷/۸، کفایت المفتی:۲۴۵/۳،۲۳۹) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۳/۱۰ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔