غیرمسلموں کو میت کاچہرہ دکھانااورمیت کے پاس ان کابیٹھنا!

(فتویٰ نمبر: ۱۶۶)

سوال:

گزشتہ ربیع الثانی تارمضان المبارک ۱۴۲۹ھ کے مجلہ ”شاہراہِ علم“ کے صفحہ نمبر: ۲۹۷/ پر” فتاویٰ محمودیہ “کے حوالہ سے ایک مسئلہ تحریر ہے، جو بندہ کے سمجھ میں نہ آسکا،اس کا جواب مطلوب ہے، وہ مسئلہ یہ ہے:

غیر مسلموں کو میت کا چہرہ دکھانا اورمیت کے پاس اُن کا بیٹھنا

”اگر کوئی مسلمان مرجائے اور کافر ،ہندو، عیسائی وغیرہ آکر اس مسلمان میت کو دیکھنا چاہیں اور یوں کہیں کہ مردہ ہمارا دوست تھا، ہمیں مردہ کا چہرہ دکھایا جائے ،تو اس صورت میں اگر شور و شغب کا خوف ہو تو مردہ کا چہرہ دکھانا جائز ہے، اور اگر زیادہ شور کا اندیشہ نہ ہو تو انکار کردے ،اسی میں احتیاط ہے۔“

(مزید اس سے نیچے موجودہ زمانے کے حالات لکھے ہوئے ہیں جو سمجھ میں آگئے،پرچے میں لکھا گیا مسئلہ تحریراً سمجھادیں، عین نوازش ہوگی!دیکھئے: شاہراہِ علم: ص/ ۲۹۷، ربیع الثانی تا رمضان المبارک ۱۴۲۹ھ)

الجواب وباللہ التوفیق:

اس مسئلے کا مفہوم یہ ہے کہ ہندو اور عیسائی کو چہرہ نہ دکھانے کی صورت میں شرو فتنہ کا اندیشہ ہے تو چہرہ دکھادیں(۱)، اوراگر اس کا اندیشہ نہیں ہے تو نہ دکھائیں، اس لیے کہ دفنِ میت کے وقت رحمت کے فرشتے اُترتے ہیں، جب کہ غیر مسلموں پر لعنت برستی ہے، تو بہتر و اَحوط یہ ہے کہ ان کو مسلم میت سے دُور رکھا جائے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الأشباه والنظائر لابن نجیم “ : الضرورات تبیح المحظورات ۔ (۳۰۷/۱)

(۲)ما في ” جامع الترمذي “ : عن ثوبان قال:خرجنا مع النبي ﷺ في جنازة فرأی ناسًا رکبانًا ، فقال:”ألا تستحیون أن ملائکة اللّٰه علی أقدامهم وأنتم علی ظهور الدواب “۔

(۱۹۶/۱ ، باب ما جاء في کراهیة الرکوب خلف الجنازة)

ما في ” مرقاة المفاتیح “: قال الملا علي القاري رحمه اللّٰه : حدیث ثوبان یدل علی أن الملائکة تحضر الجنازة ، والظاهر أن ذلک عام مع المسلمین بالرحمة، ومع الکفار باللعنة۔

(۱۴۰/۴، رقم : ۱۶۷۲) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۱/۱۹ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔