”المسائل المہمة“ کے مسئلے ”بعد از تدفین میت کے سرہانے کیا پڑھا جائے؟“ پرایک اعتراض کا جواب

(فتویٰ نمبر: ۲۰۷)

سوال:

آپ کے دارالافتا کی مطبوعہ کتاب” المسائل المهمة في ما ابتلت به العامة “ کا مطالعہ کیا ،ماشاء اللہ بہت خوب ہے ،دلائل سے مزین ہے، لیکن اس میں مذکور ایک مسئلہ ”دفن کے بعد میت کے سرہانے اور پیروں کی جانب کھڑے ہوکر کونسی دعا پڑھی جائے“؟کے ذیل میں آپ نے تحریر فرمایا کہ سورہ ٴفاتحہ یاسورہ ٴ بقرہ کی ابتدائی آیات تا ” اولئک هم المفلحون“ اور پیروں کی جانب کھڑے ہوکر سورہ ٴ بقرہ کا آخری رکوع ” للّٰہ ما في السمٰوٰت والأرض“ تا آخر پڑھا جائے۔آپ نے سراً یا جہراً کی کوئی قید نہیں لگائی، جب کہ ہمارے اکابر کے تمام فتاویٰ میں سراً کی صراحت ہے؟اُمید ہے کہ آپ اس کا جواب مرحمت فرمائیں گے !

الجواب وباللہ التوفیق:

     محترمی ومکرمی السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!

آپ نے بعد از تد فین میت کے سر ہانے کھڑے ہوکر سو رۂ بقرہ کی ابتدا ئی آیات،اور پیروں کی طرف کھڑے ہو کر سو رۂ بقرہ کے آخری رکوع کی قرأت کے سراً بہتر ہو نے کو ثابت کر نے کے لیے جن فتا ویٰ کے حوالے دیئے ہیں، مثلاً ؛

۱-امداد الفتاویٰ: ۷۲۵/۱،میں حضرت حکیم الا مت رحمة اللہ علیہ نے سراًوجہراً کی کو ئی صراحت نہیں کی ہے،بلکہ حضرت مولانا مفتی سعید صاحب دامت برکاتہم نے حا شیہ میں بحوالہ فتاویٰ دارا لعلوم لکھا ہے کہ بلا جہر پڑھا جا ئے،اور فتاویٰ دارالعلوم :۴۰۵/۵میں یہ عبارت مذکور تو ہے لیکن اس کی تا ئید میں کوئی حدیث مذکور ہے اور نہ کوئی فقہی جزئیہ مکتوب۔

۲-اسی طرح فتاو یٰ رحیمیہ: ۹۸/۳میں بھی حضرت مفتی سید عبد الر حیم صاحب لاجپوری رحمة اللہ علیہ نے سراً کو مستحب قرار دیا ہے ،اور آپ نے دلیل میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روا یت اور تائید میں شامی کی عبا رت ذکر فرمائی ہے،مگر روایت اور فقہی عبارت میں سراً وجہراً کی کوئی صراحت نہیں ہے۔

۳-اسی طرح فتاویٰ محمودیہ: ۱۴۵/۹ پر حضرت مفتی محمودالحسن صاحب گنگوہی رحمة اللہ علیہ رقم طراز ہیں کہ: ”دفن کے بعد میت کے قریب سرہانے کھڑے ہو کر سورئہ بقرہ کی ابتدائی آیات تا﴿ أولئک هم المفلحون﴾پڑھے، اور پیروں کی طرف کھڑے ہو کر سورئہ بقرہ کا آخری رکوع ﴿للّٰہ ما في السمٰوٰت والأرض﴾تا آخر پڑھے “۔اس میں بھی حضرت نے سراً وجہراً کی کوئی صراحت نہیں فرمائی ہے۔

۴-مظاہرِ علوم کے فتویٰ میں حضرت مفتی محمد طاہر صاحب دامت برکاتہم کا یہ فرمانا کہ ”سراً پڑھنا بہتر ہے ، جہراً منقول نہیں ہے ،نیزجہر کے عام ہو جانے کی صورت میں عوام کے غلو کرنے کا بھی خطرہ ہے “اس سلسلے میں ادباً جواباًیہ عرض ہے کہ جب جہراً پڑھنا منقول نہیں تو سراً کی بھی تو کوئی صراحت نہیں، رہا عوام کے غلو کر نے کا خطرہ، تو مشاہدہ یہ ہے کہ ہم عرصئہ دراز سے جہراً قرأت پر علما کا عمل دیکھ رہے ہیں اور اب تک عوام کی طرف سے کسی قسم کا کوئی غلو نظر نہیں آیا۔

۵-دارالعلوم کا فتویٰ جس میں مذ کور ہے کہ جہراً پڑھنے کی صراحت نہیں ملی،اس لیے سراً پڑھنا بہتر ہے، اور اس فتویٰ کی تائید میں ایک فقہی نظیر پیش کی گئی ، مگر احقر کی نا قص نظر میں اس کو تائید میں پیش کرنا صحیح معلو م نہیں ہوتا،کیو ں کہ اس نظیر میں جہراً قرأت کی علتِ کراہت تر کِ استماع ہے،جب کہ وہ علت بعدالتدفین جہراً قرأت میں مفقودہے، اس لیے کہ تمام لوگ جہراً قرأت نہیں کرتے، بلکہ ایک فردجہراً قرأت کر تا ہے اور دیگر تما م شرکائے جنازہ خاموشی کے ساتھ سما عت کرتے ہیں،اس لیے سراًقرأت کو بہتر قرار دینے کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔

خلاصہٴ کلام یہ کہ جن علاقوں میں علمائے کرام کا معمول سراً قرأت کا ہے وہاں جہراً،اور جن علا قوں میں جہراً قرأت کا معمول ہے وہاں سراً قرأت کا حکم نہ دینا ہی بہتر ہے،کیوں کہ دونوں عمل صحیح اور درست ہیں، اور وجہ صحت یہ ہے کہ کتبِ حدیث و فقہ میں جہراً یا سراًکی کوئی صراحت موجود نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” المعجم الکبیر “ : عن عبد الرحمن بن العلاء بن اللجلاج عن أبیه قال : قال لي أبي : یا بني ! إذا أنا مت فالحدني فإذا وضعتني في لحدي فقل : ” بسم اللّٰه وعلی ملة رسول اللّٰه “ ۔ ثم سن علي الثری سنًا ثم اقرأ عند رأسي بفاتحة البقرة وخاتمتها ، فإني سمعت رسول اللّٰه ﷺ یقول ذلک ۔

(۲۲۱/۱۹ ، ط : دار إحیاء التراث بیروت ، شرح الصدور للسیوطي : ص/۱۰۷، باب ما یقال عند الدفن والتلقین، إعلاء السنن : ۳۲۹/۸ ، آثارالسنن : ص/۳۴۷ ، باب قراء ة القرآن للمیت)

ما في ” شعب الإیمان للبیهقي “ : وعن عبد اللّٰه بن عمر رضي اللّٰه عنه سمعت النبي ﷺ : ” إذا مات أحدکم فلا تحبسوه وأسرعوا به إلی قبره ، ولیقرأ عند رأسه فاتحة الکتاب ، وعند رجلیه بخاتمة البقرة في قبره “ ۔۔۔۔۔۔۔ قد روینا القراء ة المذکورة فیه عن ابن عمر موقوفًا علیه ۔

(۱۶/۷ ، فصل في زیارة القبور ، ط : بیروت ، مشکاة المصابیح : ص/۱۴۹، باب دفن المیت ، حاشیة إعلاء السنن : ۲۳۹/۸ ، شرح الصدور للسیوطي :ص/۱۰۷ ، حاشیة آثار السنن :ص/۳۴۷)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وکان ابن عمر یستحب أن یقرأ علی القبر بعد الدفن أول سورة البقرة وخاتمتها ۔

(۲۳۴/۳ ، مطلب في دفن المیت ، ط : دار الکتاب دیوبند ، الجوهرة النیرة :۲۷۳/۱، کتاب الصلاة ، مطلب في حمل الجنازة ودفنها ، الموسوعة الفقهیة :۴۲/۱۶)

ما في ” مرقاة المفاتیح “ : (ولیقرأ) بالتذکیر ، ویوٴنث ، وبسکون اللام ویکسر ، (عند رأسه فاتحة البقرة) أي إلی المفلحون (وعند رجلیه بخاتمة) وفي نسخة خاتمة (البقرة) أي من آمن الرسول ، قال الطیبي : لعل تخصیص فاتحتها لاشتمالها علی مدح کتاب اللّٰه ، وإنه هدی للمتقین الموصوفین بالخصال الحمیدة من الإیمان بالغیب ، وإقامة الصلاة وإیتاء الزکاة ، وخاتمتها لاحتوائها علی الإیمان باللّٰه وملائکته وکتبه ورسله ، وإظهار الإیمان ۔ (۱۷۳/۴ ، کتاب الجنائز ، باب دفن المیت) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۴/۱۸ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔