مسجد کی ٹنکی کی رقم مسجد کے دیگر کاموں میں لگانا!

(فتویٰ نمبر: ۳۱)

سوال:

ایک صاحب نے مسجد کو پانی کی پلاسٹک کی ٹنکی وقف کی ہوئی ہے،لیکن اب مسجد کواُس ٹنکی کی کوئی ضرورت نہیں ہے، مستقبل میں اُس کے خراب ہونے کا خدشہ بھی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ اس ٹنکی کو فروخت کرکے اُس کی رقم مسجد کے دیگر تعمیری کاموں میں لگادیں، اس کے متعلق مفتیانِ کرام اپنی رائے دیں، عین نوازش ہوگی!

الجواب وباللہ التوفیق:

مسجد کی اُس ٹنکی کو مناسب دام میں فروخت کرکے، اُس کی رقم دوسری تعمیر ہونے والی ٹنکی ہی میں، یا پھر مسجد کی دیگر ضروریاتِ تعمیر میں لگانا شرعاً جائز ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : سئل شیخ الإسلام عن أهل قریة افترقوا وتداعی مسجد القریة إلی الخراب، وبعض المتغلبة یستولون علی خشب المسجد وینقلونه إلی دیارهم، هل لواحد من أهل القریة أن یبیع الخشب بأمر القاضي ویمسک الثمن لیصرف إلی بعض المساجد ، أو إلی هذا المسجد ؟ قال: نعم، کذا في المحیط۔

(۴۷۸/۲، ۴۷۹، کتاب الوقف، رد المحتار: ۵۵۰/۶،کتاب الوقف، مطلب في نقل أنقاض المسجد ، ط : بیروت)

(کفایت المفتی:۷/ ۶۷، فتاویٰ مفتی محمود:۴۲۸/۱) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۳/۱ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔