(فتویٰ نمبر:۳۸)
سوال:
ایک مسجد ہے جس میں چندہ کیا ہوا بہت سارا مال ہے، تو کیا اس مال کو دوسری مسجد کی تعمیر کو مکمل کرنے میں استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟ جب کہ ذمہ دار حضرات مال دینے کے لیے راضی بھی ہیں، لیکن دوسری مسجد جس کی تعمیر مکمل کرنی ہے اس کے ذمہ دار حضرات کہتے ہیں کہ یہ کرنا جائز نہیں ہے، براہِ کرم مسئلے کی وضاحت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں، عین نوازش ہوگی!
الجواب وباللہ التوفیق:
اگر فی الحال اور بظنِ غالب، آئندہ اس ما ل کی مسجد کو حاجت وضرورت نہ ہو، تو چندہ دہندگان کی رائے واجازت سے اسے تکمیلِ تعمیرِ مسجدِ ثانی میں صرف کرنا شرعاً درست ہے، اور اگر آئندہ حاجت وضرورت کا احتمال ہو، لیکن چندہ دہندگان اجازت دے دیں تب بھی جائز ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : قال العلامة الحصکفي رحمه اللّٰه : وعن الثاني ینقل إلی مسجد آخر بإذن القاضي ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حشیش المسجد وحصره مع الاستغناء عنهما ، وکذا الرباط والبئر إذا لم ینتفع بهما ینصرف في وقف المسجد ، والرباط والبئر والحوض إلی أقرب مسجد، أو رباط أو حوض۔ (در مختار) ۔
(۵۴۹/۶ ، کتاب الوقف)
ما في ” الفتاوی التاتارخانیة “ : وقال العلامة عالم بن العلاء الأنصاري رحمه اللّٰه : وسئل شمس الأئمة الحلواني عن مسجد أو حوض خرب ، ولا یحتاج إلیه لتفرق الناس : هل للقاضي أن یصرف أوقافه إلی مسجد آخر وحوض آخر ؟ قال نعم ۔
(۴۸۵/۴ ، الفصل الرابع وعشرون ، رد المحتار : ۵۵۰/۶ ، کتاب الوقف ، مطلب فیما خرب المسجد وغیره ، الفتاوی الهندیة :۴۷۸/۲ ، کتاب الوقف)
(فتاویٰ محمودیه:۵۱/۱۵، باب أحکام المساجد ، فتاویٰ حقانیه:۵/ ۸۷، باب المساجد) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی ۔ ۸/۳/ ۱۴۲۹ھ
الجواب صحیح: عبد القیوم اشاعتی ۔ ۸/۳/ ۱۴۲۹ھ
