کیا خواتین اپنا مہر مسجد کی تعمیر میں لگا سکتی ہیں ؟

(فتویٰ نمبر: ۱۳۴)

سوال:

۱-ہمارے یہاں پر مسجد کی توسیع کی جارہی ہے،اس میں ہمارے گاوٴں کے تمام ہی لوگ اپنا روپیہ لگانا چاہتے ہیں،لیکن کچھ لوگ بہت غریب ہیں جو زیادہ رقم یک مشت نہیں دے سکتے ہیں۔

۲-خواتین حضرات بھی اپنا کچھ مال لگانا چاہتی ہیں، بعضے خواتین اپنا مہر مسجد کے تعمیری کام میں دینا چاہتی ہیں ،تو کیا وہ اپنا مہردے سکتی ہیں؟

۳-کسی کارِ خیر کے لیے عورتوں کے مہر کی تشکیل کی جاسکتی ہے یا نہیں؟

۴-کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی بیویوں کا انتقال ہوچکا ہے اور ان لوگو ں نے مہر ادا نہیں کیا، تو اب وہ اپنی بیویوں کے انتقال کے بعد مہر مسجد میں دینا چاہتے ہیں،کیا اُن کا یہ مہر کا روپیہ مسجد میں دینا درست ہے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

   ۱-مسجد اللہ کا گھر ہے ،اس کی تعمیر میں حلال وطیب مال ہی لگانا ضروری ہے، گاوٴں کے ہرہر فرد پر کسی متعین رقم کو لازم کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا، بلکہ جوشخص خوش دِلی کے ساتھ کتنی بھی رقم دے وہی رقم مسجد میں لگانا چاہیے، اگر غربا اپنی رقم مسجد میں لگانا چاہتے ہیں، تو جس قدر رقم کے فی الحال وہ مالک ہیں اور جتنی رقم وہ خوش دِلی سے دے سکتے ہیں وہی لی جائے، انہیں قرض لے کر دینے پر مجبور نہ کیا جائے۔(۱)

۲-مہر عورت کا حق ہے ،وہ اس کی مالک ہے، اگر وہ اپنے مہر کی رقم تعمیرِ مسجد میں لگانا چاہتی ہے، تو اُسے پورا اختیار ہے۔ (۲)

۳-جس طرح دیگر لوگوں سے ان کی ملکیت کے اموال میں کارِ خیر کے  لیے چندہ کی تشکیل کرنا جائز ہے، اسی طرح عورتوں سے اُن کے مہر کی تشکیل کی جا سکتی ہے۔(۳)

۴-زوجہ کا انتقال ہوگیا اور اب تک اس کا مہر ادا نہ کیا، تو اس کے مرنے کے بعد وہ مہر اس کے ورثا کا حق ہے۔

(الف)اور ان وارثوں میں شوہر بھی شامل ہے، اگر متوفیہ کی کوئی اولاد نہ ہو تو آدھا مہر شوہر کو ملے گا اور آدھا باقی ورثا کو، یعنی ذوی الفروض یا عصبات کو، اور اگر اولاد ہو تو شوہر کو ربع ملے گا۔

(ب)اور اگر کوئی بھی نہ ہو تو پورا کا پورا مہر شوہر کو ملے گا۔

(ج)اور اب شوہر کو اختیار ہوگا وہ جہاں چاہے صرف کرے ،خواہ اپنے ذاتی مصرف میں لائے، یا مسجد وغیرہ میں صرف کرے۔

(د)لیکن دوسرے ورثا کے موجود ہوتے ہوئے شوہر کو ان حصوں میں کچھ بھی تصرف کرنے کا اختیار نہیں ہے۔(۴)

الحجة علی ما قلنا :

(۱)ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لا یکلِّف اللّٰه نفسًا إلا وسعها﴾ ۔ (سورة البقرة : ۲۸۶)

ما في ” مختصر تفسیر ابن کثیر “ : أي لا یکلف أحدًا فوق طاقته ۔ (۲۶۰/۱)

ما في ” أحکام القرآن لإبن العربي“:هذا أصل عظیم في الدین،ورکن من أرکان شریعة المسلمین،شرفنا اللّٰه سبحانه علی الإسم بها فلم یحملنا أمرًا ولا کلفنا في مشقة أمرًا۔

(۲۶۴/۱)

ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” ألا ! لا تظلموا ألا ! لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منه “ ۔

(ص/۲۵۵ ، باب الغصب والعاریة)

(السنن الکبری للبیهقي : ۱۶۶/۶ ، کتاب الغصب ، ط : بیروت)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : لأن اللّٰه تبارک وتعالی لا یقبل إلا الطیب فیکره تلویث بیته بما لا یقبله ۔ (۳۷۳/۲ ، کتاب الصلاة)

(۲) ما في ” الفتاوی التاتارخانیة “ : وفي المهر حقوق ثلاثة : حق الشرع : وهو أن لا یکون أقل من عشرة ، وحق الأولیاء : وهو أن لا یکون أقل من مهر مثلها ، وحق المرأة : وهو کونه ملکًا لها ۔ (۳۲۹/۲)

ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : کل یتصرف في ملکه کیف ما شاء ۔(۲۰۱/۳ ، رقم المادة :۱۱۹۲)

(۳) ما في ” جامع الترمذي “ : عن زید بن أسلم عن أبیه قال : سمعت عمر بن الخطاب یقول : أمرنا رسول اللّٰه ﷺ أن نتصدق ، فوافق ذلک مالا عندي ، فقلت : الیوم أسبق أبا بکر إن سبقته یومًا ، قال: فجئت بنصف مالي، فقال رسول اللّٰه ﷺ : ” ما أبقیت لأهلک ؟ “ فقلت: مثله ، وأتی أبوبکر کل ما عنده، فقال : ” یا أبا بکر ! ما أبقیت لأهلک ؟ “ قال : أبقیت لهم اللّٰه ورسوله ، قلت : واللّٰه لا أسبقه إلی شيء أبدًا ۔ (۴۵۲/۴ ، رقم : ۳۶۷۵ ، کتاب المناقب، ط: بیروت)

(سنن أبي داود : ص/۲۳۶ ، کتاب الزکاة ، أسد الغابة :۳۳/۳)

(۴) (الف) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿إن اللّٰه یأمرکم أن توٴدوا الأمانات إلی أهلها﴾ ۔(سورة النساء : ۵۸)

ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : خطاب یقتضي عمومه سائر المکلفین ۔ (۲۵۹/۲)

ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : کما تکون أعیان المتوفی المتروکة مشترکة بین وارثیه علی حسب حصصهم ، کذلک یکون الدین الذي له في ذمة آخر مشترکا بین وارثیه علی حسب حصصهم ۔(۵۵/۳ ، کتاب الشرکة ، رقم المادة : ۱۰۹۲)

(ب) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿ولکم نصف ما ترک أزواجکم إن لم یکن لهن ولد فإن کان لهن ولد فلکم الربع مما ترکن من بعد وصیة یوصین بهآ أو دین﴾ ۔

(سورة النساء :۱۲)

ما في ” السراجي للمیراث “ : وأما للزوج فحالتان : النصف عند عدم الولد وولد الإبن وإن سفل ، والربع مع الولد أو ولد الإبن وإن سفل ۔ (ص/۱۱)

(الفتاوی الهندیة : ۴۵۰/۶ ، الدر المختار مع الشامیة : ۴۲۲/۱۰)

(ج) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : إنه یرد علیهما في زماننا لفساد بیت المال ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قال في” المستصفی“ : والفتوی الیوم بالرد علی الزوجین ، وهو قول المتأخرین من علماء نا ․․․․․․ وفي” المستصفی“ : والفتوی الیوم علی الرد علی الزوجین عند عدم المستحق لعدم بیت المال، إذ الظلمة لا یصرفونه إلی مصرفه ۔

(۴۴۴/۱۰، ط: دار الکتاب دیوبند)

(د) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : لا یجوز التصرف في مال غیره بلا إذنه ولا ولایته ۔(۲۴۰/۹) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۱۱/۹ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔