ڈبھوئیہ واڑ مسجد بھروچ کے متعلق ایک استفتا!

(فتویٰ نمبر: ۲۰۱)

سوال:

ہمارے محلے میں ۶۰/سال سے زیادہ پرانی مسجد شہید کی گئی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ :

۱-پرانی مسجد کو شہید کردیا گیا ہے، اب نئی مسجد اسی جگہ پر بنانی ہے، نئی مسجد میں پرانے جماعت خانہ کی جگہ پر گراوٴنڈ فلور (Ground Floor)کا تعمیری کام ختم ہوجانے پر، تقریباً ایک مہینے سے پنج وقتہ نماز پڑھائی جاتی ہے ،یعنی یہاں نماز پڑھنے کی نیت ہوچکی ہے، اب اس جماعت خانے کو تہ خانہ کا نام دے کر، نماز پڑھنا بند کرکے ،۱۶/ فٹ کی اونچائی پر، پہلے فلور(First Floor) پر جماعت خانہ (یعنی پنج وقتہ نماز کی جگہ) مقرر کرسکتے ہیں یا نہیں؟ یا پھر پرانی مسجد میں جماعت خانہ جہاں تھا وہیں تعمیر کرنا چاہیے؟ واضح ہو کہ پرانے جماعت خانہ کی جگہ میں کوئی تبدیلی یا کھدائی نہیں کی گئی ہے۔

۲-تہ خانہ پرانے جماعت خانہ کے نیچے کھدائی کرکے بنانا چاہیے، یا پرانے جماعت خانہ کی جگہ کے اوپر بنانا چاہیے؟ تہ خانہ کسے کہتے ہیں؟پرانے جماعت خانہ کی جگہ کو کھدائی کرکے بنائے ہوئے کو کہتے ہیں، یا پرانے جماعت خانہ کو کھدائی نہ کرکے بنائے ہوئے کو تہ خانہ کہتے ہیں؟

۳-مسجد شہید کرنے سے پہلے جس جگہ جماعت خانہ تھا،اس جگہ کو ایسے ہی چھوڑ کر اُوپر ۱۶/ فٹ کی اونچائی پر پہلے فلور پر جماعت خانہ بنایا جائے، اور پرانے جماعت خانہ کی جگہ ایسے ہی بغیر نماز کے چھوڑدی جائے، تو کیا پرانے جماعت خانہ کی جگہ استعمال میں نہ آنے پر، اس جگہ سے بد دعا یا لعنت نکلتی ہے ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-اصل مسجد گراوٴنڈ فلور (Ground Floor/نیچے کا حصہ) ہی ہے، اس لیے گراوٴنڈ فلور کو تہ خانہ کا نام دے کر، اس میں نماز پڑھنا بند کرنا، اور اس کے اوپر ۱۶/ فٹ اونچائی پر جماعت خانہ بنانا شرعاً درست نہیں ہے، کیوں کہ اس میں بلاضرورت مسجد کے چھت پر چڑھنا لازم آئے گا،جب کہ یہ مکروہ ہے(۱)، نیز اس میں مصلیوں بالخصوص بوڑھے اور کمزوروں کو اُترنے چڑھنے کی تکلیف ہوگی، جس کی وجہ سے وہ جماعت کی حاضری سے رک جائیں گے اور جماعت کے ثواب سے محروم رہیں گے ، اس لیے یہ عمل بھی کراہتِ تحریمی سے خالی نہیں ہوگا۔(۲)

۲-(الف) جب پرانی تعمیر میں تہ خانہ نہیں تھا ،تو نئی تعمیر میں تہ خانہ بنانا شرعاً جائز نہیں ہے۔(۳)

(ب) تہ خانہ اسے کہتے ہیں جو زیرِ زمین ہوتا ہے ،گراوٴنڈ فلو رکو تہ خانہ کہنا صحیح نہیں ہے۔(۴)

۳-اصل مسجد (پرانا جماعت خانہ) کو نمازوں کے ذریعہ آباد رکھنا اس کا شرعی حق ہے، اس لیے بلاضرورت اس کے اُوپر ۱۶/ فٹ اونچائی پر جماعت خانہ بنانااور اسی کو پنج وقتہ نمازوں کے لیے متعین کرنا شرعاً ظلم هوگا۔(۵)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : الصعود علی سطح کل مسجد مکروه ، ولهذا إذا اشتد الحر یکره أن یصلوا بالجماعة فوقه إلا إذا ضاق المسجد ، فحینئذٍ لا یکره الصعود علی سطحه للضرورة ۔ (۳۲۲/۵)

(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وکل ما أدی إلی ما لا یجوز،لا یجوز ۔ (در مختار) ۔(۴۳۲/۹ ، کتاب الحظر والإباحة)

(۳) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : أما لو تمت المسجدیة ثم أراد البناء منع ، ولو قال : عنیت ذلک لم یصدق ۔” تاتار خانیة “ ۔ فإذا کان هذا في الواقف فکیف بغیره ۔ (در مختار) ۔ (۴۲۸/۶ ، کتاب الوقف ، باب أحکام المساجد)

(۴) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وإذا جعل تحته سردابًا ، جمعه سرادیب ، وهو بیت یتخذ تحت الأرض لغرض تبرید الماء وغیره ، کذا في الفتح ۔ (در مختار) ۔

(۴۳۳/۱۳ ، کتاب الوقف ، ط : دار الثقافة والتراث دمشق ، سوریا)

(۵) ما في ” فتاوی قاضي خان علی هامش الهندیة “ : لأن لمسجد منزله حقًا علیه فیوٴدی حقه ۔ (۶۷/۱، فصل في المسجد) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۷/۳/۱۴۳۰ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔