(فتو یٰ نمبر: ۲۰۶)
سوال:
ایک شخص کے پاس انجمن کے پیسے جمع ہیں ، وہ پیسے اس لیے جمع کیے گئے تھے کہ ایک مسجد بنوائی جائے گی، جس کا ابھی کام چالو ہے ،لیکن جھگڑے ہوگئے اور وہ شخص جس کے پاس انجمن کا پیسہ جمع کیا گیا تھا کہتا ہے کہ اس پیسے کی ہم دوسری مسجد بنوائیں گے، تو پوچھنا یہ ہے کہ جمع کیا گیا پیسہ پہلی مسجدکے لیے استعمال کریں،جس کا تعمیری کام جاری ہے ؟یا دوسری مسجد جس کی تعمیر ابھی تک شروع نہیں ہوئی اس میں استعمال کریں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
جو رقم جس مسجد کی تعمیر کے لیے جمع کی گئی تھی، وہ اُسی مسجد کی تعمیر میں خرچ کی جائے گی، اُسے دوسری مسجد کی تعمیر میں خرچ کرنا درست نہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ :وإن اختلف أحدهما بأن بنی رجلان مسجدین،أو رجل مسجدًا أو مدرسة ، ووقف علیهما أوقافًا لا یجوز له ذلک؛أي الصرف المذکور۔
(۵/۴۳۰ ، کتاب الوقف ، مطلب في نقل أنقاض المسجد ونحوه)
ما في ” البحر الرائق “ : وکذا إذا اختلف الواقف لا الجهة یتبع شرط الواقف ۔ (۳۶۲/۵ ، کتاب الوقف)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : شرط الواقف کنص الشارع ؛ أي في المفهوم والدلالة ۔ (درمختار)۔(۵۰۷/۵ ، کتاب الوقف ، مطلب استأجر دارًا فیها أشجار)
ما في ” منحة الخالق علی البحر الرائق “ : فإن کان الوقف معینا علی شيء یصرف إلیه بقدر عمارة البناء ۔ (۳۵۷/۵ ، کتاب الوقف) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۴/۱۷ھ
