(فتویٰ نمبر: ۴۶)
سوال:
ہمارے گاوٴں میں پٹاخے کی فرمیں چلتی ہیں،جس کا طریقہٴ کار یہ ہے کہ اس کے لیے بینک سے سودی قرض لیا جاتا ہے،توکیا ان لوگوں کا ان فرموں کی آمدنی کو مسجد یا مدرسے میں لگانا صحیح ہے یا نہیں؟ نیزوہ اس آمدنی سے مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں، یہ درست ہے یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
عام حالات میں سود پر قرض لینا شرعاً ناجائز وحرام ہے(۱)، البتہ سخت مجبوری اور اضطرار کی حالت میں جب کہ نوبت ہلاکتِ نفس، یا عزت وآبرو تک پہنچ جائے، تو بقدرِ حاجت سود پر قرض لینے کی گنجائش ہے(۲)، محض بڑی بڑی فرمیں قائم کرنے اور اپنے کاروبار کو ترقی دینے اور وہ بھی ناجائز کاروبار کے لیے سودی قرض لینا کسی بھی حال میں شرعاً جائز نہیں ہے، اور جب یہ کاروبار ناجائز ہے، تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مسجد کی تعمیر میں لگانا کراہتِ تحریمی سے خالی نہیں ہوگا، اس لیے اس سے بچنا لازم ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ مالِ طیب یعنی حلال مال ہی کو قبول فرماتے ہیں، لہٰذا ایسا مال جسے اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتے اس سے اس کے مقدس گھر کو ملوث کرنا بھی مکروہ ہے(۳)، حدیث شریف میں ہے:”اللہ تعالیٰ پاک ہیں مالِ طیب ہی کو قبول فرماتے ہیں“۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وأحل اللّٰه البیع وحرَّم الربٰوا﴾ ۔ (سورة البقرة : ۲۷۵)
ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن جابر قال : ” لعن رسول اللّٰه ﷺ آکل الربا وموکله ، وکاتبه وشاهدیه، وقال : هم سواء “ ۔ (۲۷/۲ ، مشکوة المصابیح :ص/۲۴۴)
(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فمن اضطر في مخمصة غیر متجانف لإثم﴾ ۔ (سورة المائدة :۳)
ما في ” البحر الرائق “ : ویجوز الاستقراض بالربح ۔ قوله : في القنیة من الکراهیة یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح ۔
(۱۸۵/۶، کتاب البیوع ، باب الربوا ، ط : بیروت، الأشباه والنظائر لإبن نجیم الحنفي :۳۲۶/۱ ، ” الضرر یزال “)
(۳) ما في ” رد المحتار “ : قال تاج الشریعة : أما لو أنفق في ذلک مالا خبیثًا أو مالا مخلوطًا من الخبیث والطیب فیکره؛ لأن اللّٰه تعالی لا یقبل إلا الطیب ، فیکره تلویث بیته بما لا یقبله ۔ شرنبلالیة ۔ اه ۔(۴۳۱/۲ ، کتاب الصلاة ، مطلب کلمة لا بأس دلیل علی المستحب غیره ۔ اه۔ ط : بیروت)
(۴) ما في ” صحیح البخاري “ : عن أبي هریرة قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” من تصدق بعدل تمرة من کسب طیب ، ولا یقبل اللّٰه إلا الطیب ، فإن اللّٰه یتقبلها بیمینه ثم یربیها لصاحبهاکما یربي أحدکم فلوه حتی تکون مثل الجبل “ ۔ متفق علیه ۔(۱۸۹/۱ ، باب الصدقة من کسب طیب ، ط : بلال دیوبند)
(مشکوة المصابیح : ص/۱۶۷ ، باب فضل الصدقة ، ط : بلال دیوبند) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۳/۱۶ھ
