(فتویٰ نمبر: ۲۲۸)
سوال:
ہمارے گاوٴں میں صرف ایک ہی مسجد ہے، جس میں صرف ۱۲۵/ افراد ہی نماز پڑھ سکتے ہیں،اور عید کے روز نمازیوں کی تعداد ۱۲۰۰/ تک پہنچ جاتی ہے، مسجد کے ناکافی ہونے کی وجہ سے انتہائی دقت پیش آتی ہے، نیز اہلِ قریہ کے پاس اتنی وسعت نہیں ہے کہ وہ عید گاہ کے لیے الگ سے زمین خرید سکیں،لیکن گاوٴں میں ایک بڑا قبرستان ہے ،جس کے مغربی حصے میں نمازِ جنازہ ادا کی جاتی ہے، اور اس حصے میں فی الحال تدفین بھی نہیں کی جاتی، تو کیا اہلِ قریہ کا اس مغربی حصے کو ضرورتِ شدیدہ کی وجہ سے عیدگاہ بنا لینا درست ہے یانہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
قبرستان کے لئے وقف کردہ جگہ میں عیدگاہ بنانا درست نہیں، ممنوع ہے، اس لیے عارضی طور پر قبرستان کے اس حصے میں نمازِ عید پڑھی جاسکتی ہے جہاں قبر یں نہ ہوں، یا ہوں مگر دور ہوں، البتہ شرعی عید گاہ کے لیے کوشش کرتے رہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في”التنویر مع الدر والرد “:اتحد الواقف والجهة وقل مرسوم بعض الموقوف علیه،جاز للحاکم أن یصرف من فاضل الوقف الآخر علیه ، وإن اختلف أحدهما لا۔(۴۳۱/۶)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : شرط الواقف کنص الشارع ؛ أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به ۔ (در مختار) ۔
(۵۰۸/۶ ، کتاب الوقف ، مطلب شرط الواقف کنص الشارع)
ما في ” البحر الرائق “ : أما إذا اختلف الواقف أو اتحد الواقف واختلف الجهة بأن بنی مدرسة ومسجدًا وعین لکل وقفًا ، وفضل من غلة أحدهما لا یبدل شرط الواقف ، وکذا إذا اختلف الواقف لا الجهة ، یتبع شرط الواقف وقد علم بهذا التقریر اعمال الغلتین احیاءً للوقف ورعایةً شرط الواقف ، هذا هو الحاصل من الفتاوی ، وقد علم منه أنه لا یجوز لمتولي الشیخونیة بالقاهرة صرف أحد الوقفین للآخر ۔ (۳۶۲/۵)
ما في”الدر المختار مع الشامیة “:ولا بأس بالصلاة فیها(أي في المقبرة)إذا کان فیها موضع أعد للصلاة ولیس فیه قبر ولا نجاسة،کما في الخانیة۔
(۳۹/۲ ،مطلب في إعراب کائنا ماکان)
(فتاویٰ محمودیه:۳۶۳/۱۵، ۳۶۴، باب في أحکام المقابر)فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۵/۲۱ھ
