شیعہ کا ذبح کردہ جانور کا گوشت کھانا !

(فتویٰ نمبر: ۱۵۱)

سوال:

(الف)-شیعہ کے یہاں پر کٹا ہوا قربانی کا گوشت کھانا کیسا ہے؟

(ب)-قربانی کے گوشت کو کاٹ کر سکھاکر رکھنا اور کھانا کیسا ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

(الف)-جس شیعہ رافضی کا عقیدہ نصوص کے خلاف ہو، مثلاً قرآنِ مجید میں تحریف کا قائل ہو، یا حضرتِ علی رضی اللہ عنہ کو نبی آخرالزماں مانتا ہو،حضراتِ شیخین(ابوبکر صدیق وعمر فاروق)رضی اللہ عنہماکو کافر کہتا ہو، حضرتِ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر بہتان لگاتا ہو،تو ایسا شخص اسلام سے خارج ہے، لہٰذا اُس کے یہاں قربانی کا گوشت کھانا جائز نہیں ہے،اگر اس کا عقیدہ قرآنِ کریم کے خلاف نہیں ہے،تو اس کے یہاں قربانی کا گوشت کھانے کی گنجائش ہے،لیکن احتیاط اولیٰ ہے۔(۱)

(ب)- اس میں کوئی قباحت نہیں۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : الرافضي إذا کان یسب الشیخین ویلعنهما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والعیاذ باللّٰه فهو کافر ، ولو قذف عائشة رضي اللّٰه عنها بالزنا کفر باللّٰه ، ومن أنکر إمامة أبي بکر الصدیق رضي اللّٰه عنه فهو کافر ۔ (۲۶۴/۲ ، کتاب السیر ، الباب التاسع في أحکام المرتدین)

(فتاویٰ محمودیه: ۲۳۵/۱۷)

(۲) ما في ” جامع الترمذي “ : قوله علیه السلام : ” کنت نهیتکم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث لیتسع ذو الطول علی من لا طول له ، فکلوا ما بدا لکم وأطعموا وادّخروا “ ۔

(۲۷۷/۱ ، باب الرخصة في أکلها بعد ثلاث ، رقم : ۱۵۰۹)

ما في ” الصحیح لمسلم “ : روي عن النبي ﷺ أنه نهی عن أکل لحوم الضحایا بعد ثلاث ، ثم قال بعد : ”کلوا وتزوّدوا وادّخروا “ ۔

(۱۵۸/۲، باب بیان ما کان من النهي عن أکل لحوم الأضاحي بعد ثلاث في أول الإسلام ، رقم : ۵۰۷۷)

(فتاویٰ محمودیه: ۴۴۰/۱۷) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۱۲/۲ھ

اوپر تک سکرول کریں۔