(فتویٰ نمبر: ۱۵۳)
سوال:
۱- کیا قربانی کے جانور کی قیمت قربانی سے پیشتر (Before)ادا کرنا ضروری ہے؟ نیز عقیقہ کے جانور کی قیمت کا کیا حکم ہے؟
۲-جانور کے وہ اعضا کتنے ہیں جن کا کھانا حرام یا مکروہ ہے، نیز اوجھڑی کا کیا حکم ہے؟
۳-اگرجانور کا گاہک،جانور کی عمر پوری بتلائے اور مشتری اُس پر اعتماد کرکے اُس جانور کی قربانی کردے، لیکن بعد میں جانور کی عمر کا کم ہونا معلو م ہو، تو کیا ایسے شخص پر قربانی دوبارہ واجب ہوگی؟
۴-قربانی کا گوشت کچا یا پکا غیر مسلم کو دینا کیسا ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-اُدھار جانور خریدنے کی صورت میں بھی خریدار، جانور کا مالک ہوجاتا ہے، اور جب وہ مالک ہے تو اس کے لیے اپنی ملک میں تصرف بہر صورت جائز ہے، لہٰذا اس کی قربانی درست ہے (۱)، نیز عقیقہ کے جانور کی قیمت کا بھی یہی حکم ہے۔
۲-قربانی کے جانور، ایسے ہی ہر ماکول اللحم جانور کی سات چیزوں کا کھانا حرام ہے، اور وہ یہ ہیں: دمِ مسفوح، ذکر، فرجِ مادہ، پتہ، خصیتین، غدود، مثانہ(۲)،البتہ اوجھڑی حلال ہے،اس میں کوئی وجہ حرمت کی نہیں، کیوں کہ شریعتِ اسلامیہ نے حرام چیزوں کو بیان کردیا ہے اور اوجھڑی ان کے علاوہ ہے۔
۳-اگر شخصِ مذکور مال دا ر ہے اور ایامِ قربانی باقی ہیں، تو اُس پر دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا لازم ہے، ورنہ جانور کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہے، اور اگر وہ غریب ہے تو اس کے لیے دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا، یا اس کی قیمت صدقہ کرنا لازم نہیں ہے۔(۳)
۴– غیر مسلم کو قربانی کا کچا یا پکا گوشت دینا جائز ہے۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” فتح القدیر “ : ویجوز البیع بثمن حال موٴجل إذا کان الأجل معلومًا لإطلاق قوله تعالی : ﴿أحل اللّٰه البیع﴾ ۔ (۲۴۲/۶)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وصح بثمن حال وهو الأصل وموٴجل إلی معلوم ؛ لئلا یفضي إلی النزاع ۔ (۳۹/۲)
ما في ” فتح القدیر “ : الملک قدرة یثبتها الشارع ابتداء علی التصرف ۔ (۲۳۰/۶)
(۲) ما في ” السنن الکبری للبیهقي “ : کان رسول اللّٰه ﷺ یکره من الشاة سبعًا : الدم والمرار والذکر والأنثیین والحیا والغدة والمثانة ۔ (۱۲/۱)
ما في ” بدائع الصنائع “ : وأما بیان ما یحرم أکله من أجزاء الحیوان المأکول فالذي یحرم منه سبعة : الدم المسفوح والذکر والأنثیان والقبل والغدة والمثانة والمرار لقوله عز شأنه : ﴿ویحل لهم الطیبٰت ویحرم علیهم الخبائث﴾ ۔ وهذه الأشیاء السبعة مما تستخبثه الطباع السلیمة فکانت محرمة ۔
(۱۹۰/۴، کتاب الذبائح والصیود ، الدر المختار مع الشامیة :۳۹۵/۱۰)
(۳) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : لو اشتری شاة للأضحیة عن نفسه أو عن ولده فلم یضح حتی مضت أیام النحر کان علیه أن یتصدق بتلک أو بقیمتها ۔ (۲۹۶/۵)
ما في ” بدائع الصنائع “ : إذا اشتری شاة للأضحیة وهو موسر ثم انها ماتت أو سرقت أو ضلت في أیام النحر أنه یجب علیه أن یضحي بشاة أخری ؛ لأن الوجوب في جملة الوقت ، والمشتري لم یتعین للوجوب والوقت باق وهو من أهل الوجوب فیجب ۔۔۔۔۔۔ وإن کان معسرًا فاشتری شاة للأضحیة فهلکت في أیام النحر أو ضاعت سقطت عنه ، ولیس علیه شيء آخر ۔(۱۹۹/۴ ، کتاب الأضحیة ، فصل في کیفیة الوجوب)
(۴) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فکلوا منها وأطعموا القانع والمعترّ﴾ ۔ (سورة الحج : ۳۶)
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لا ینهٰکم اللّٰه عن الذین لم یقاتلوکم في الدین ولم یخرجوکم من دیارکم أن تبرّوهم وتقسطوا إلیهم﴾ ۔ (سورة الممتحنة : ۸)
ما في ” صحیح مسلم “ : قوله علیه السلام : ” یا أهل المدینة ! لا تأکلوا لحوم الأضاحي فوق ثلاث ، فشکوا إلی رسول اللّٰه ﷺ أن لهم عیالا وحشمًا وخدمًا ، فقال : ” کلوا وأطمعوا واحبسوا أو ادّخروا “ ۔ (۱۵۸/۲)
ما في ” کنز العمال “ : قوله علیه السلام : ” إذا ضحی أحدکم فلیأکل من أضحیته ویطعم عنه غیره “ ۔ (۳۶/۵)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ویهب منها ما شاء للغني والفقیر والمسلم والذمي ۔ (۳۰۰/۵)
ما في ” موسوعة الفقه الإسلامي المعاصر “ : یجوز للمسلم أن یوسي جاره الکافر من لحم الأضحیة ویوسع علیه تالیفًا لقلبه وأداء الحق الجوار ۔ (۲۸۲/۳) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۱۲/۴ھ
