قربانی کا جانور وزن (Weight)سے خریدنا!

(فتویٰ نمبر: ۱۵۸)

سوال:

ہمارے یہاں بمبئی میں ایک شخص نے قربانی کے چھوٹے جانور (بکرے) وزن (Weight)کے حساب سے فروخت کیے،تو کیا وزن سے خرید کر اس جانور کی قربانی کرسکتے ہیں یانہیں؟ اورلوگ اسے قربانی کے لیے خریدتے بھی ہیں ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

صورتِ مسئولہ میں روپیہ دے کر جانور کو وزن (Weight) سے خریدا جارہا ہے، جس میں اتحادِ قدر وجنس نہ ہونے کی وجہ سے ربوا کا شبہ نہیں ہے اور نہ کوئی غرر ہے، اور نہ ایسی کوئی جہالت ہے جو جھگڑے کا سبب ہو ،لہٰذا اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے، بیع جائز ہے اور قربانی صحیح ہے، واضح رہے کہ یہاں بیع گوشت کی نہیں بلکہ پورے جانور کی ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وأحل اللّٰه البیع وحرَّم الربٰوا﴾ ۔ (سورة البقرة : ۲۷۵)

ما في ” التفسیر المنیر للزحیلي “ : قال : ۔۔۔۔۔ تضمنت الآیات أمور خمسة : الموضوع الأول ، إباحة سائر البیاعات التي لیس فیها نهي شرعي عنها ۔ (۱۰۲/۳)

ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : ﴿أحل اللّٰه البیع وحرم الربوا﴾ عموم في إباحة سائر البیاعات ؛ لأن لفظ البیع موضوع لمعنی مقول في اللغة ، وهو تملیک المال بمال بإیجاب وقبول عن تراض منهما ، وهذا هو حقیقة البیع في مفهوم اللسان ۔ (۵۸۶/۱)

ما في ” البنایة في شرح الهدایة “ : وکل شيء نص رسول اللّٰه ﷺ علی تحریم التفاضل فیه کیلا فهو مکیل أبدًا وإن ترک الناس الکیل مثل الحنطة ۔۔۔۔۔ لأن النص أقوی من العرف ، والأقوی لا یترک بالأدنی ، (وما لم ینص من النبي ﷺ) علیه (فهو محمول علی عادات الناس) لأنها دالة أي العادة دالة علی جواز الحکم فیما وقعت علیه العادة لقوله ﷺ : ” ما رآه المسلمون حسنًا فهو عند اللّٰه حسن “ ۔ وقوله ﷺ : ”لا تجمع أمتي علی الضلالة “ ۔(۳۵۶/۷ ، کتاب البیوع ، باب بیع الفاسد)

(کشف الخفا للعجلوني:۱۶۸/۲،رقم: ۲۲۱۲، و:۳۱۸/۲،رقم :۲۹۹۸

ما في ” فتح القدیر “ : العرف بمنزلة الإجماع عند عدم النص ۔ (۱۵/۷، کتاب البیوع ، ط : بیروت)

ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : لا ینکر تغیر الأحکام بتغیر الأزمان ۔ (۴۷/۱)

(فتاویٰ قاضی: ص/۱۰۱، منتخباتِ نظام الفتاویٰ: ۲۴۴/۱) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۱۲/۱۸ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔