بلڈنگ یا فلیٹ پر زکوۃ کا حکم شرعی کیا ہے ؟

(فتویٰ نمبر: ۱۴)

سوال:

ہم زکوة دہندگان کو اکثر وبیشتر زکوة کے باب میں بہت سی اُلجھنیں پیش آتی رہتی ہیں، اس لیے چند صورتوں کے تسلی بخش جوابات عنایت فرماکر مشکور وممنون فرمائیں!

۱-ایک شخص جو صاحبِ نصابِ زکوة ہے،اس نے دو کروڑ کی زمین عرصہ دراز ہوا خریدی ہوئی ہے، آج اس کی قیمت کم از کم دس کروڑ ہے، اور نیت یہ ہے کہ کبھی اس پر بیچنے کے لیے تعمیرات (Buildings)بنائیں گے، یا بنانے دیدیں گے،یا پھر بیچ دیں گے، تو کیا اس زمین کی زکوة ہر سال واجب ہوتی رہے گی؟ اگر واجب ہے تو کم از کم قیمت پر واجب ہوگی؟یا پھر دو کروڑ پر جو اس کی شروع میں لاگت لگی تھی؟ یا پھر جب اس کو بیچے گا تب واجب ہوگی ؟

۲-ایک بلڈ ر (Builder)نے بلڈنگ (Building)بنائی، اس میں پچاس فی صد فلیٹ (Flat) بیچ دیئے ہیں اور اکثر کا پیمنٹ(Payment) آگیا ہے، اور خریداروں کے کچھ ہفتے انسٹال مینٹ (Installment) باقی ہیں ، اور رمضان آگیا، زکوة کا سال بھی پورا ہوگیا، اور پچاس فی صد فلیٹ(Flat) تو ابھی تک بکے ہی نہیں ہیں،تو ان کی زکوةکی ادائیگی کس طرح اور کتنی واجب ہوگی؟ کیا نصف مال جو ابھی تک بیچا ہی نہیں،مالِ تجارت ہونے کی وجہ سے اس پر بھی زکوة واجب ہوگی؟ اور کیا جو ہفتے خریداروں کے باقی ہیں،ان پر بھی زکوة ادا کرنا واجب ہوگا؟ جب کہ کچھ خریداروں کے ہفتے مقررہ وقت پر آتے ہی نہیں،دو چار مہینوں کی جگہ سال ڈیڑھ سال بھی لگا دیتے ہیں،ان پر نوٹس(Notice) مارکر وارننگ(Warning) بھی صادر کرنی پڑتی ہے، تو کیا آنے والے پیمینٹ(Payment) پر بھی زکوة اسی رمضان میں واجب ہوگی؟

۳-بمبئی میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں کثیر تعدادان بلڈرس(Builders) کی ہے، جن میں سے کسی کے پاس دس کروڑ کی، تو کسی کے پاس پچاس کروڑ کی زمین ہے آج کے حساب سے، اگرچہ چار پانچ سال پہلے اس کو تھوڑے ہی بھاوٴ میں لیا تھا، یا پندرہ بیس سال پہلے چند کوڑیوں میں لیا تھا اور نیت یہ تھی کہ پروجیکٹ(Project) کھڑا کریں گے، یا پھر بیچ دیں گے، تو وہ زکوة کس طرح نکالیں گے؟

۴-ایک شخص کا ذاتی طبیلہ ہے، جس کی موجودہ قیمت پانچ کروڑ روپے ہے، اور طبیلے کے اندر دودھ کے لیے پانچ سو بھینسیں ہیں، جو ڈیڑھ کروڑ کی ہیں،تو وہ شخص زکوة کس طرح ادا کرے گا؟

۵-بمبئی اور ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں دو طرح کی ملکیت ہوتی ہے،ایک لینڈ اونر (Land Owner) اور دوسرا اُسی لینڈ(Land) میں قابض قبضہ داری حقوق کی ملکیت،جو سرکار یعنی گورنمنٹ نے دسمبر ۱۹۴۸ءء میں قانون نافذکیا تھا، اوراسی حساب سے آج وہ قبضہ داری کے حقوق ایک دوسرے کے ہاتھ منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں، یعنی ایک ہی زمین، یا ہوٹل، یا کمپنی میں اگر زمین کا مالک ،یا زمین پر عمارت کا مالک ایک شخص ہے،تو دوسرا شخص اس کا قانونی طور سے قبضہ دار بھی ہے، اب سوال یہ ہے کہ کسی نے لینڈ اونر (Land Owner)سے پانچ کروڑ دے کر لینڈ اونر شپ(Land Owner Ship) کی ملکیت خریدی ،تو کسی نے قانونی قبضہ داری سے حقوقِ قبضہ داری خرید کر پانچ کروڑ دیا، تو ان حضرات کی زکوة کا کیا حکم ہوگا؟ جب کہ اس کی نیت زیادہ قیمت آنے پر بیچ دینے کی ہی ہے، گویا وہ شخص انوسٹر (Invester)رأس المال (Capital)ادھر سے ادھر نفع کمانے کی غرض سے خریدی کرتا ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق:

     ۱-جو زمین اس نیت سے خریدی ہو کہ اس پر تعمیرات کرکے بیچ دیں گے،یا تعمیرات کے لیے بیچ دیں گے، توا س طرح کی زمین اَموالِ تجارت(Trade Goods) میں شمار ہوگی اور ہر سال اس کی زکوة واجب ہوگی، اور جس دن زکوة ادا کی جارہی ہے اسی دن کی قیمت معتبر ہوگی نہ کو یومِ خرید کی۔(۱)

۲-سال کے پورا ہونے پر زکوة اسی رقم کی واجب ہے جو فی الحال بلڈر (Builder)کے پاس موجود ہو ،اور رہے خریدار کے ہفتے اور انسٹال مینٹ (Installment)تو وہ دینِ قوی ہے، اور دینِ قوی کہتے ہیں ان نقد روپیوں کو جو بطورِ قرض دیے گئے ہوں،اور اس سامان کو جوبیچ دیا گیا ہو لیکن قیمت کی وصولی ابھی باقی رہ گئی ہو، تو اس رقم پر زکوة اس وقت واجب ہوگی جب کہ وہ وصول ہوجائے، اب رقم ملنے کی دوصورتیں ہیں:

(۱)کئی برس بعد وہ رقم اکٹھا وصول ہوجائے، تو اس صورت میں ان تمام برسوں کی زکوة دینا واجب ہوگی، جتنے برس یہ رقم مقروض کے پاس رہی۔

(۲)دوسرے یہ کہ تھوڑی تھوڑی وصول ہو، اب جتنی رقم وصول ہوتی جائے اس کی زکوة ادا کرتا جائے۔(۲)

اور رہے وہ فلیٹ (Flat)جو ابھی تک بکے نہیں ،تو وہ بھی اموالِ تجارت (Trade Goods) میں شامل ہوں گے اور ہر سال ان کی مالیت پر زکوة واجب ہوگی۔(۳)

۳-اگر زمین اس نیت سے خرید ی ہو کہ اس پرپروجیکٹ (Project)کھڑا کریں گے، تو اس پر زکوة واجب نہیں ہوگی، بلکہ جب اس پر پروجیکٹ (Project)کھڑا کیا جائے گا اور اس سے آمدنی (Income) ہوگی، تو اس پر زکوة واجب ہوگی(۴)،اور اگر یہ زمین اس نیت سے خریدی ہو کہ اس کو بیچ دیں گے، تو اس پر زکوة واجب ہوگی(۵)، اور ادائے زکوة میں اسی دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا جس دن زکوٰة ادا کی جارہی ہے ،نہ کہ قیمتِ خرید کا۔(۶)

۴-اگر بھینسوں کی تجارت ہوتی ہے، تو دیگر اموالِ تجارت(Trade Goods) کی طرح ان میں بھی زکوة لازم ہوگی، یعنی سال گزرجانے پر جتنی قیمت کی بھینسیں موجود ہوں گی،اُن کا چالیسواں حصہ زکوة میں ادا کرنا ہوگا ، درمیانِ سال جو کچھ ان کو کھلایا پلایا، یاان سے کما کر کھایا اس کا کوئی بھی حساب زکوة میں نہیں ہوگا(۷)، اور اگر تجارت بھینسوں کی نہیں ہوتی بلکہ ان سے حاصل شدہ دودھ کی ہوتی ہے،تو دودھ کی قیمت کا جو روپیہ سال پورا ہونے پر موجود ہو، اور یہ رقم بقدرِ نصاب نیز زائد از حوائجِ اصلیہ ہو، تو اس پر زکوة واجب ہوگی۔(۸)

۵-جس شخص نے اصل مالکِ زمین سے حقِ ملک کو خریدا، اُس کے اِس حق کے مالک ہونے کی وجہ سے وہ اس زمین(Land) پر قائم کمپنیوں(Companies) اور ہوٹلوں(Hotels) کی طرف سے ملنے والے کرایہ کا حق دارہوا، لہٰذا اس پر کرایہ میں حاصل ہونے والی رقم کی زکوة لازم ہوگی، بشرطیکہ بقدرِ نصاب ہو اور اُس پر سال گزر جائے، نہ کہ اس رقم کی جو اس نے اس حق کو خریدنے میں لگائی ہے ، ہاں! اگر اس حق کو اس لیے خریدا کہ زیادہ قیمت آنے پر اسے فروخت کردے گا،تو اس میں لگی رقم پر زکوة واجب ہوگی، اور جس دن زکوٰة ادا کی جارہی ہے اس دن سے اس حقِ ملک کی جو قیمت ہوگی ،اس کا چالیسواں حصہ زکوة میں دینا واجب ہوگا۔(۹)

رہے وہ لوگ جنہوں نے قابض بحقِ قبضہ داری سے اس حقِ قبضہ داری کو خریدا ،ان کی بیع درست نہیں ہے ،کیوں کہ قابض محض سرکار کے اس قانون کی وجہ سے (جس کا ذکر سوال میں کیا گیا) حقِ قبضہ داری کا مالک بنا ،اس نے اس حق کو اصل مالک سے خریدا نہیں، جب وہ مالک نہیں تو اسے فروخت بھی نہیں کرسکتا ،کیوں کہ غیر مملوک کی بیع ممنوع ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” لا تبع ما لیس عندک “ تو اس شئ کو نہ بیچ جس کا تو مالک نہیں۔ (ابو داود : ص/۴۹۰)

اس صورت میں حقِ قبضہ داری شرعاً اصل مالک ہی کا حق ہے، اور اسے یہ حق لوٹانا ضروری ہے، فرمانِ خداوندی ہے : ﴿اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُوٴَدُّوْا الأَمَانَاتِ إِلٰی أَہْلِہَا ”بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اُن کے مالکوں کو ادا کردو ۔“ (سورة النساء : ۵۸)

سی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:” فَأَعْطِ کُلَّ ذِيْ حَقٍّ حَقَّہ“۔ ”ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دینا واجب ہے۔“ (صحیح البخاری : ۲۶۴/۱)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : الزکاة واجبة في عروض التجارة کائنة ما کانت إذا بلغت قیمتها نصابًا من الورق والذهب ، کذا في الهدایة ۔

(۱۷۹/۱ ، کتاب الزکاة ، الفصل الثاني في العروض)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وتعتبر القیمة یوم الوجوب ، وقالا یوم الأداء ۔ (۲۱۱/۳)

(۲) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : قوي : وهو ما یجب بدلا عن سلع التجارة إذا قبض أربعین زکی لما مضی۔ کذا في الزاهدي ۔ (۱۷۹/۱)

(۳) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : الزکاة واجبة في عروض التجارة کائنة ما کانت إذا بلغت قیمتها نصابًا من الورق والذهب ۔ کذا في الهدایة ۔ (۲۷۵/۱)

(۴) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولیس في دور السکنی وثیاب البدن وأثاث المنزل ودواب الرکوب وعبید الخدمة وسلاح الاستعمال زکاة ؛ لأنها مشغولة بحاجته الأصلیة ولیست بنامیة أیضًا ۔(۶/۲ ، ط : مکتبه نعمانیه دیوبند)

(فتاویٰ امارتِ شرعیه :۳۶/۳)

(۵) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : الزکاة واجبة في عروض التجارة کائنة ما کانت إذا بلغت قیمتها نصابًا من الورق والذهب ، کذا في الهدایة ۔ (۱۷۹/۱)

(۶) ما في ” رد المحتار “ : قوله : (وهو الأصح) أي کون المعتبر في السوائم یوم الأداء إجماعًا ، هو الأصح ، فإنه ذکر في البدائع أنه قیل أن المعتبر عنده فیها یوم الوجوب ، وقیل یوم الأداء ، وفي المحیط : یعتبر یوم الأداء بالإجماع ، وهو الأصح ۔ (۲۱۱/۳)

(۷) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وإن کانت للتجارة فحکمها حکم العروض یعتبر أن تبلغ قیمتها نصابًا سواء کانت سائمة أو علوفة ۔ (۱۷۸/۱)

(۸) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : الزکاة واجبة في عروض التجارة کائنة ما کانت إذا بلغت قیمتها نصابًا من الورق والذهب ، کذا في الهدایة ۔ (۱۷۹/۱)

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۸/۱۲/۶ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔