دینِ(Loan) قوی پر زکوة!

(فتویٰ نمبر: ۸۶)

سوال:

ہماری بہن کے ہمارے خالہ زاد بھائی پر پینتیس ہزار (۳۵۰۰۰)روپے قرض ہیں، وہ قرض ادا کرنے میں ٹال مٹول کررہا ہے،توکیا ان روپیوں پر زکوة واجب ہوگی یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

آپ کی ہمشیرہ کے جو پینتیس ہزار (۳۵۰۰۰) روپے، خالہ زاد بھائی پر قرض ہیں، اگرا س قرض کی وصولی یقینی ہو تو یہ قرض دینِ قوی ہے،جس کا حکم یہ ہے کہ بعد از وصول گزشتہ سالوں کی زکوة بھی واجب ہوتی ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ”الدر المختار مع الشامیة “ : واعلم أن الدیون عند الإمام ثلاثة : قوي ومتوسط وضعیف، ف(تجب) زکاتها إذا تم نصابا وحال الحول ، لکن لا فورًا بل (عند قبض أربعین درهمًا من الدین) القوي کقرض (وبدل مال تجارة) ۔

(۲۳۶/۳ ، ۲۳۷ ، کتاب الزکاة ، باب زکاة الأموال ، الفتاوی التاتارخانیة: ۵۸/۲ ،۵۹ ، کتاب الزکاة ، الفصل الثالث عشر في زکاة الدیون ، ط : دار الإیمان سهارنفور ، خلاصة الفتاوی :۲۳۸/۱ ، کتاب الزکاة ، الفصل السادس في الدیون ، ط : رشیدیه کوئٹه) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۶/۴ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔