(فتویٰ نمبر: ۶۴)
سوال:
۱-زید کے دس ہزار روپے عمرو پر اور دس ہزارروپے خالد پر بطورِ قرض ہیں، زید کو یقینِ کا مل ہے کہ یہ دونوں ضرور قرض ادا کردیں گے،اور اس کو ایک سال سے زائد ہوگیا، تو زید پر اُن پیسوں کی جو عمرو اور خالد پر قرض ہیں، زکوة واجب ہوگی یا نہیں؟ یا پھر رقم حاصل کرنے کے بعد زکوة واجب ہوگی؟
۲-سعید کے پاس اتنی رقم تھی جس پر زکوة واجب ہوتی ہے،مگر اس نے وہ رقم بطورِ قرض ابوبکر کو دیدی، اور ابوبکر سعید کو تھوڑے تھوڑے پیسے دے کر قرض ادا کررہا ہے، تو اس صورت میں زکوة نکالنے کا طریقہ کیا ہوگا؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱– یہ دین (قرض) دینِ قوی ہے، جس کے وصول کا زید کو یقین ہے، لہٰذا اس کے وصول ہونے پر زید کو اس کی زکوة دینا لازم ہوگا، خواہ جتنے سالوں میں وصول ہو اُن تمام سالوں کی زکوة ادا کرنی ہوگی۔(۱)
۲– اگریہ رقم تھوڑی تھوڑی وصول ہو، اور وہ نصاب کے ۵/۱یعنی پانچویں حصے کے برابر ہو، تو زکوة کی ادائیگی لازم ہوگی ورنہ نہیں، مثلاً: دو سو درہم قرض ہیں اور ان میں سے چالیس درہم وصول ہوں،تو ایک درہم لازم ہوگا۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۲-۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : اعلم أن الدیون عند الإمام ثلاثة : قوي ومتوسط وضعیف، ف(تجب) زکاتها إذا تم نصابًا وحال الحول ، لکن لا فورًا بل (عند قبض أربعین درهمًامن الدین)۔۔۔۔۔۔ یلزمه درهم ۔
(۲۳۶/۳، کتاب الزکاة ، باب زکاة الأموال ، الفتاوی التاتارخانیة :۵۸/۲ ، الفصل الثالث عشر، خلاصة الفتاوی : ۲۹۹/۱) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۴/۲۵ھ
