(فتویٰ نمبر: ۱۳۱)
سوال:
۱-دو پلاٹ مکان بنانے کے لیے خریدے تھے،بعد میں وہ جگہ نامناسب ہونے کی وجہ سے دوسری جگہ دو پلاٹ خریدے اور اس پر مکان بنائے،اب پہلے جو دو پلاٹ لیے تھے کیا ان پر زکوة واجب ہوگی؟
۲-ہم نے اس نیت سے چار پلاٹ خریدے کہ جب پیسوں کی ضرورت پڑے گی پلاٹ بیچ دیں گے ،تو ان پر زکوة واجب ہوگی یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-اگر پلاٹ خریدتے وقت آپ کی نیت فروخت کرنے کی نہیں تھی، بلکہ بعد میں وہ جگہ نامناسب ہونے کی وجہ سے آپ نے فروخت کرنے کا ارادہ کیا، توجب تک اس پلاٹ کو فروخت کرنے کے بعد اس کی رقم پر ایک سال کی مدت نہیں گزرے گی، زکوة واجب نہ ہوگی، اور نہ ہی نفسِ پلاٹ پر زکاة واجب ہوگی۔(۱)
۲-اگر آپ نے یہ پلاٹ اس نیت سے خریدے ہیں کہ جب پیسوں کی ضرورت پڑے گی تو ان کو بیچ دوں گا، یعنی یہ پلاٹ رہائشی مکان یا دکان بنانے کے لیے نہیں بلکہ تجارت کے لیے خریدے گئے ہیں،تو ایسی صورت میں ان پلاٹوں پر زکوة واجب ہوگی، یعنی ہر سال مارکیٹ میں جو ان کی قیمتِ فروخت ہوگی اس میں سے ڈھائی فی صد زکوة نکالنا لازم ہوگا۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : فلا زکاة علی مکاتب ۔۔۔۔۔ ولا في ثیاب البدن المحتاج إلیها لدفع الحر والبرد وأثاث المنزل ودور السکنی ونحوها ۔ (تنویر) ۔
(۱۶۸/۳ ، کتاب الزکاة ، مطلب في زکاة ثمن المبیع ، ط : دارالکتاب دیوبند)
ما في ” الهدایة “ : ولیس في دور السکنی وثیاب البدن وأثاث المنزل ودواب الرکوب وعبید الخدمة وسلاح الاستعمال زکاة ؛ لأنها مشغولة بالحاجة الأصلیة ولیست بنامیة أیضًا ۔ (۱۶۶/۱، کتاب الزکاة)
(۲) ما في ” بدائع الصنائع “ : قال صاحب البدائع علاء الدین أبو بکر الکاساني رحمه اللّٰه : وسواء کان مال التجارة عروضًا أو عقارًا أو شیئًا مما یکال أو یوزن ؛ لأن الوجوب في أموال التجارة تعلق بالمعنی وهو المالیة والقیمة ، وهذه الأموال کلها في هذا المعنی جنس واحد ۔
(۱۰۹/۲ ، کتاب الزکاة ، فصل في نصاب أموال الزکاة ، ط : دار الکتاب دیوبند)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : الزکاة واجبة في عروض التجارة کائنة ما کانت إذا بلغت قیمتها نصابًا من الورق والذهب ۔
(۱۷۹/۱ ، الفصل الثاني في العروض ، ط : زکریا دیوبند)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : قال الحصکفي رحمه اللّٰه : تعتبر القیمة یوم الوجوب وقالا یوم الأداء ، وفي السوائم یوم الأداء إجماعًا ، وهو الأصح ، ویقوم البلد الذي المال فیه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إلیه ۔ (در مختار) ۔ (۱۹۵/۳ ، کتاب الزکاة ، باب زکاة الغنم ، ط : دار الکتاب دیوبند)
ما في ” البحر الرائق “ : وإن أدی قیمتها فعنده تعتبر القیمة یوم الوجوب في الزکاة والنقصان عندهما في الفصلین یعتبر یوم الأداء ۔
(۳۸۶/۲ ، کتاب الزکاة ، فصل في الغنم ، ط : دار الکتاب دیوبند) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۱۱/۱ھ
